’’سعودی عرب اورفرانس کی شراکت داری ویژن 2030 کے اہداف کے حصول میں اہم‘‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سعودی عرب کے وزیر برائے سرمایہ کاری خالد الفالح نے کہا ہے کہ فرانس کے ساتھ شراکت داری اور سرمایہ کاری کے معاہدے مملکت کو اپنے ویژن 2030 کے اہداف کے حصول میں مدد دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

پیرس میں سعودی فرانسیسی سرمایہ کاری فورم سے خطاب کرتے ہوئے الفالح نے کہا:’’2026 میں، ہم فرانس اور سعودی عرب کے درمیان سفارتی تعلقات کا 100 سالہ جشن منائیں گے۔ ویژن 2030 میں سعودی عرب کی بہت سی کامیابیوں میں فرانس کی شراکت داری کے نشانات موجود ہوں گے‘‘۔

انھوں نے کہا کہ ’’دونوں ممالک جرآت مندانہ عزائم کے حامل ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ سعودی ویژن 2030 اور فرانس کے 2030 کے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے ہمارے عزائم پورے ہوجائیں گے، خاص طور پر اس مضبوط متحرک قیادت کے ساتھ جو دونوں ممالک شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی قیادت میں اور فرانس عمانوایل ماکرون کی رہ نمائی میں ترقیاتی اہداف حاصل کر رہے ہیں‘‘۔

سعودی عرب کی وزارت سرمایہ کاری (میسا) کے زیراہتمام ہونے والے فرانسیسی سعودی سرمایہ کاری فورم میں دونوں ملکوں کے سرکاری حکام اور نجی شعبے کی کمپنیوں کو مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے بڑے مواقع پر تبادلہ خیال کرنے کا موقع ملے گا۔انھیں اپنے معاشی ترقی کے منصوبوں پر ہر ملک کی ترقی کو ظاہر کرنے کا موقع بھی ملے گا۔

الفالح نے اپنی تقریر میں یہ بھی بتایا کہ سعودی عرب میں کام کرنے والی فرانس کی مکمل ملکیت کی حامل کمپنیوں یا مشترکہ منصوبوں کو 360 لائسنس جاری کیے گئے ہیں۔

انھوں نے مزید بتایا کہ میرے ریکارڈ سے پتا چلتا ہے کہ سعودی عرب میں 110 سے زیادہ فرانسیسی کمپنیاں ہیں۔ہمارے پاس 360 لائسنس ہیں جو فرانس کی مکمل ملکیت والی کمپنیوں یا مشترکہ منصوبوں کو دیے گئے ہیں اور 2020 کے بعد سے ان کی موجودگی میں 43 فی صد اضافہ ہوا ہے۔

الفالح کے مطابق، مملکت میں فرانسیسی سرمایہ کاری میں اضافہ جاری ہے اور سعودی عرب فرانس کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے تمام ضروری عوامل مہیا کرنے کو تیار ہے۔انھوں نے کہا کہ 2022 میں دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا حجم 12 ارب ڈالر رہا تھا جو 2021 کے مقابلے میں 47 فی صد زیادہ تھا۔

وزیر سرمایہ کاری نے فورم کو بتایا کہ سعودی عرب ویژن 2030 کے اقتصادی اصلاحاتی منصوبے کے نتیجے میں سرمایہ کاری اور سیاحت کے لیے ایک پرکشش مقام بن گیا ہے۔

فرانس کے وزیر برائے خارجہ تجارت اولیور بیخٹ نے اس موقع پر کہا کہ دونوں ممالک کو اقتصادی اور تجارتی تعلقات کی رفتار کو برقرار رکھنے کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ فرانس اور سعودی عرب کا مشترکہ مقصد اپنے دوطرفہ تعلقات کو ہر لحاظ سے زیادہ سے زیادہ فروغ دینا ہے۔سعودی عرب خطۂ خلیج فرانس کی براہ راست سرمایہ کاری کا سرفہرست ترجیحی مقام ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں