برطانیہ نے شام کے وزیر دفاع اور چیف آف سٹاف پر پابندیاں لگا دیں

اثاثوں کو منجمد کردیا گیا، مخالفین کے خلاف عصمت دری اور جنسی تشدد کے لیے ان پر سفر کرنے پر پابندی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

برطانیہ نے شام کے وزیر دفاع اور شامی مسلح افواج کے چیف آف سٹاف کے خلاف پیر کے روز نئی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کردیا۔ یہ پابندیاں تنازعات سے متعلق جنسی تشدد کے نئے الزامات کے تناظر میں لگائی گئی ہیں۔

فارن کامن ویلتھ اینڈ ڈیولپمنٹ آفس (FCDO) نے کہا کہ پابندیوں کے تحت شام کے وزیر دفاع علی محمود عباس اور شام کے آرمی چیف آف سٹاف عبدالکریم محمود ابراہیم کے اثاثوں کو منجمد کیا جائے گا اور انہیں سفر سے روک دیا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ علی محمود عباس کا شام کی فوج اور مسلح افواج کی قیادت کرنے میں ایک کردار تھا جنہوں نے منظم طریقے سے شہریوں کے خلاف عصمت دری اور جنسی یا صنفی بنیاد پر تشدد کی دیگر اقسام کا استعمال کیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ عبد الکریم عصمت دری اور جنسی اور سماجی تشدد کی دیگر اقسام کے منظم استعمال کا سہارا لینے والے فوجی دستوں کو کمانڈ کرکے شامی شہریوں کو دبانے میں ملوث تھا۔

مزید برآں برطانیہ نے مشرقی کانگو میں دو باغی رہنماؤں ديزيری ندجوكپا اور ولیم یاکو ٹومبا پر بھی اسی طرح کی پابندی عائد کردی ہے۔ کامن ویلتھ آفس نے مزید کہا کہ دونوں گروپوں نے انفرادی اور اجتماعی عصمت دری کا سہارا لیا اور بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی کی۔

مقبول خبریں اہم خبریں