سوڈانی فوج کی ریڈ کراس کے قافلے پر حملے سے لا تعلقی کا اظہار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سوڈان کی مسلح افواج نے کہا ہے کہ دارالحکومت خرطوم میں بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی کے قافلے پرہونے والے حملے سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

کل سوموار کو ریڈ کراس نے کہا تھا کہ طبی ٹیم متحارب فریقین کی درخواست پر زخمیوں کو لے جا رہی تھی جب اس پر حملہ کیا گیا۔ سوڈانی فوج نے اس معاملے کی ذمہ داری سے انکار کیا ہے۔

فوج نے ایک بیان میں اس واقعے سے لا تعلقی کا اظہار کرتے ہوئے وضاحت کی کہ جس علاقے میں فائرنگ ہوئی وہ ریپڈ سپورٹ فورسز[آر ایس ایف] کے کنٹرول میں ہے۔

"ہمارے پاس کوئی فوجی نہیں ہے"

فوج کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ریڈ کراس مشن کے نمائندوں نے متعدد زخمی فوجیوں کو بحری سے ام درمان منتقل کرنے کا عمل شروع کیا۔ بحری پہنچنے پر انہوں نے اطلاع دی کہ انہیں کبری کوپر میں ایک سنائپر نے گولیوں کا نشانہ بنایا ہے۔

بیان میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ اس علاقے میں مسلح افواج کا کوئی فوجی نہیں ہے اور یہ کہ ریپڈ سپورٹ فورسز وہاں موجود ہیں۔

سوڈانی فوج نے ریڈ کراس کے نمائندوں پر انخلاء کے پروٹوکول اور نقل و حرکت کے مخصوص نقشے کی مکمل پابندی نہ کرنے کا الزام بھی لگایا۔ فوج نے اس امید کا اظہار کیا کہ ریڈ کراس اپنے کام کے اصولوں اور طے شدہ اصولوں کے مطابق اپنا انسانی مشن انجام دے گی۔

قابل ذکر ہے کہ ریپڈ سپورٹ فورسز نے ایک بیان میں اعلان کیا تھا کہ فوج نے ان کی فورسز پر اس وقت حملہ کیا جب وہ آگے بڑھ رہے تھے۔ بین الاقوامی ریڈ کراس مشن کے قافلے پر حملے میں 35 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے۔ ان میں زیادہ تر فوجی تھے جو ملٹری ہسپتال لائے گئے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حملے کے نتیجے میں انخلاء کے عمل کی نگرانی کرنے والے ایک اہلکار کے زخمی ہونے اور ریڈ کراس مشن کے ارکان کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں