موسلا دھار بارش میں ڈوبنے والی گاڑی کا ترک ڈرائیور معجزانہ طور پر بچا لیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ میں 5 روز سے منگل کی صبح تک وقفے وقفے سے ہونے والی موسلادھار بارش نے نشیبی علاقوں میں واقع دکانوں اور مکانات کے ساتھ ساتھ سڑکوں پر کھڑی گاڑیوں کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔

ترک ڈیزاسٹر اینڈ ایمرجنسی اتھارٹی کی جانب سے جاری کردہ انتباہات میں دارالحکومت کے رہائشیوں سے احتیاط برتنے کی اپیل کی گئی ہے۔

میڈیا پر تصاویر اور ویڈیوز میں انقرہ کی گلیوں میں موسلا دھار بارش ،جو یہاں معمول کی بات ہے ،اور اس سے ہونے والے نقصانات کو دیکھا جاسکتا ہے ۔ اس کے لیے حکمران جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ حزب اختلاف کی پارٹی ریپبلکن پیپلز پارٹی جس سے انقرہ کے میئر کا تعلق ہے، پر بنیادی ڈھانچے اور عوامی سہولیات کو نظر انداز کرنے کا الزام لگاتی ہے۔

ترکیہ میں سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو کلپ کے مطابق ایک ڈرائیور نے سیلاب میں ڈوب جانے کے بعد اپنی گاڑی کا دروازہ کھول کر باہر نکلنے کی کوشش کی۔ لیکن سیلابی پانی سے اس کی گاڑی بھر گئی اور وہ اپنا توازن کھو بیٹھا۔

ڈرائیور اسی کوشش میں اپنی گاڑی کے نیچے گر گیا اس دوران راہگیروں نے اس کی مدد کی ، اسے گاڑی کے نیچے سے نکالا اور وہ معجزانہ طریقے سے بچ گیا۔

ترکیہ کے محکمہ موسمیات کے مطابق کل بدھ کو بھی بارش ہونے کی توقع ہے۔ بارش نے انقرہ میں گا ڑیوں کی نقل و حرکت مفلوج کر دی۔

موسلا دھار بارش کی وجہ سے ملازمین اور کارکن بھی اپنے کام پر نہیں پہنچ سکے، یہ ایک ایسا منظر ہے جو دارالحکومت انقرہ میں مسلسل دہرایا جاتا ہے جب موسم خراب ہوتا ہے۔

یہ طوفان ملک کی حکمران جماعت اور حزب اختلاف کی مرکزی جماعت "ریپبلکن پیپلز" کے درمیان تنازعہ میں تبدیل ہو گیا ہے اور دونوں فریق ایک دوسرے پر الزامات کا تبادلہ کرتے رہے۔

ترک ذرائع نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو انکشاف کیا ہے کہ "انقرہ میونسپلٹی کی قدرتی آفات سے نمٹنے میں ناکامی کے نتیجے میں اپوزیشن آئندہ بلدیاتی انتخابات کے بعد اپنی پوزیشن کھو سکتی ہے۔"

جہاں جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی بنیادی اپوزیشن پارٹی پر بنیادی ڈھانچے اور عوامی سہولیات کو نظر انداز کرنے کا الزام عائد کرتی ہے، دوسری پارٹی کا اصرار ہے کہ بارش کے وقت دارالحکومت کو جو مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہ حکمران جماعت کے سابق میئر کی وجہ سے ہے۔

بلدیاتی انتخابات کی تاریخ سے تقریباً 9 ماہ قبل، حکمراں جماعت انقرہ اور استنبول کی میونسپلٹیوں کو بحال کرنے کے لیے کام کر رہی ہے، جنہیں وہ 2019 میں ملک کے آخری بلدیاتی انتخابات میں ہار گئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں