ٹائی ٹینک کے قریب آبدوز کے خطرناک سفر پر ہر مسافر نے اڑھائی لاکھ ڈالر خرچہ کیا

آبدوز "ٹائٹن" 96 گھنٹے تک آکسیجن سمیت لائف سپورٹ آلات سے لیس اور 4 ہزار میٹر گہرائی تک پہنچ سکتی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

آبدوز "OceanGate's Titan" کے بارے میں بہت کم معلومات ہیں جو 3 سیاحوں کو لے کر جا رہی تھی جس میں ایک برطانوی ارب پتی بھی شامل تھا جو کئی سالوں سے دبئی میں مقیم تھا۔ اس سے رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔ یہ آبدوز بر اوقیانوس کے پانیوں میں ڈوبے ہوئے "ٹائٹینک" کے ملبے پر گر گئی تھی۔

Advertisement

اس آبدوز کے بارے میں صرف اتنا معلوم ہے کہ اس کا وزن 10,432 کلو گرام ہے اس کا سفر عام طور پر زیادہ سے زیادہ 8 دن پر محیط ہوتا ہے۔ اس کا سفر نیو فاؤنڈ لینڈ کے ساحل سے شروع ہوتا ہے جو مشرقی کینیڈا میں واقع "ٹائی ٹینک" کے ملبے سے 592 کلومیٹر دور ہے۔ یہ آبدوز 38 سو میٹر گہرائی میں سمندر میں ڈوب گئی ہے۔ ایک مکمل غوطہ لگ بھگ 8 گھنٹے جاری رہتا ہے۔ اس میں سے بھی نصف وقت نیچے اترنے اور چڑھنے میں لگ جاتا ہے۔ OceanGate کمپنی کی ویب سائٹ کے مطابق کمپنی کے پاس ایسی 3 آبدوزیں ہیں۔

تاہم آبدوز "ٹائٹن" میں 5 افراد کی گنجائش ہے۔ اس کے حالیہ سفر میں 3 سیاح موجود تھے۔ ہر ایک نے سفر کرنے کے لیے 250 ہزار ڈالر ادا کیے۔

آبدوز "ٹائٹن" اپنے بیس سے عام طور پر ہر 15 منٹ میں ایک پنگ یا اونچی آواز والی "کلنگ" نشر کر کے بات چیت کرتی ہے۔ اتوار کو جی ایم ٹی وقت کے مطابق سہ پہر 3 بجے آبدوز سے آخری "کلنگ" جاری ہوئی۔ جس کے بعد یہ کم از کم 7 گھنٹے کے لیے سطح سے کٹی رہی۔ اس وقت یہ ٹائی ٹینک کے بالکل اوپر تھی۔ اس میں مشہور 59 سالہ برطانوی ارب پتی ہمیش ہارڈنگ بھی سوار تھے۔

آبدوز کا پتہ لگانے کے لیے بوسٹن میں امریکی کوسٹ گارڈ کی برانچ کو کو کال کی گئی۔ ایک ریسکیو بوٹ بھیجی گئی جسے وہاں پہنچنے کے لیے دو دن درکار تھے۔ کمپنی کے ایک ذریعے نے یقین کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "سبمرسیبل" یا Submersible ملبے کے نچلے حصے میں پھنس گیا ہوگا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں