اقدار کے خلاف مواد نمٹنے کا طریقہ کار بنایا جائے: سعودی وزیر اطلاعات

عالمی میڈیا پر مشترکہ عرب موقف اختیار کیا جائے: سلمان الدوسری، فلسطینی دیہات پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں: سعودی وزیر خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی وزیر اطلاعات سلمان الدوسری نے مطالبہ کردیا کہ ہمارے مذہبی، ثقافتی اور اخلاقی اصولوں کی خلاف ورزی کرنے والے مواد کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک مشترکہ عرب میکانزم بنایا جائے۔

مراکش کے دارالحکومت رباط میں عرب وزرائے اطلاعات کی کونسل کے اجلاس کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ اس طرح کا طریقہ کار بین الاقوامی میڈیا پلیٹ فارمز پر ایک مشترکہ عرب موقف اختیار کرنے کے قابل بنائے گا۔ اس طریقہ کار میں ہمارے اصولوں اور اقدار کے خلاف مواد شائع کرنے والے پلیٹ فارمز کو پابند کیا جائے گا کہ وہ ہمارے ممالک میں اشاعتی کنٹرول کا احترام کریں۔

سلمان الدوسری نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عرب دنیا کو ایک مشترکہ چیلنج کا سامنا ہے جس کی نمائندگی کچھ بین الاقوامی میڈیا پلیٹ فارمز کر رہے ہیں جو عرب مذہبی، ثقافتی اور اخلاقی اصولوں سے متصادم مواد نشر کر رہے ہیں۔ یہ پلیٹ فارمز ہر معاشرے کے اپنی اقدار اور ثقافت کی پاسداری اور تحفظ کے حق کا احترام نہیں کر رہے۔

انہوں نے کہا کہ ان پلیٹ فارمز سے نمٹنے کے لیے موثر میکانزم کی کمی کا حوالہ دیا اور انہیں قابل اطلاق اشاعتی کنٹرول کا پابند بنانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے یہ مطالبہ ایسے وقت میں کیا ہے جب عرب وزارتی کونسل نے سعودی عرب کو عرب وزرا کونسل کے سی ای او کے طور پر منتخب کیا ہے۔

دوسری طرف سعودی وزارت خارجہ نے کہا کہ سعودی عرب فلسطینی دیہاتوں پر قابض آباد کاروں کے حملوں کو مسترد کرتا اور ان حملوں کی شدید مذمت کرتاہے۔ بیان میں کہا گیا کہ فلسطینی شہریوں کو دھمکانے کی واضح تردید کرتے ہیں۔

سعودی وزارت خارجہ نے جمعرات کو ایک بیان میں مزید کہا کہ ہم مسئلہ فلسطین کے منصفانہ اور جامع حل تک پہنچنے کی تمام کوششوں کے لیے اپنی مضبوط حمایت کی تجدید کرتے ہیں۔

فلسطین کی وزارت صحت اور ایک عینی شاہد نے کہا ہے کہ بدھ کے روز مغربی کنارے کے گاؤں ترمسعیا کے خلاف آباد کاروں کے حملوں کے دوران ایک فلسطینی جاں بحق ہوگیا۔ ترمسعیا کے رہائشیوں کے مطابق گاؤں پر 200 سے 300 کے درمیان یہودی آباد کاروں نے حملہ کیا۔

اے ایف پی کے فوٹوگرافروں اور نامہ نگاروں نے گاؤں میں جلے ہوئے گھروں اور گاڑیوں کو دکھایا اور زخمیوں کو ایمبولینسوں سے نکالے جانے کے مناظر بھی دکھائے۔

گاؤں کے ایک رہائشی عوض ابو سمرہ نے بتایا کہ آباد کاروں نے ہم پر گولیاں چلائیں، جب پولیس اور اسرائیلی فوج آئی تو انہوں نے ہم پر ربڑ کی گولیاں برسا دیں اور آنسو گیس کی شیلنگ کردی۔

گاؤں کے میئر لافی ادیب نے تصدیق کی کہ 35 مکانات کو نقصان پہنچا اور تقریباً 50 گاڑیاں جل گئیں۔ کئی ایکڑ پر کھڑی فصلوں اور زرعی زمینوں کو آگ لگ گئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں