بائیڈن انتظامیہ بھارتی ہنر مند کارکنوں کے لیے ویزا پابندیوں میں نرمی کرے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اس معاملہ سے واقف تین افراد کے مطابق بائیڈن انتظامیہ بھارت کے افراد کے لیے ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں رہنے اور کام کرنے کو آسان بنائے گی۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے اس ہفتے کے سرکاری دورے کا استعمال کرتے ہوئے کچھ ہنر مند کارکنوں کو ملک میں داخل ہونے یا رہنے میں مدد ملے گی۔

امریکی محکمہ خارجہ آج جمعرات کو یہ اعلان کر سکتا ہے کہ ’’ ایچ ون بی ‘‘ ویزوں پر بھارتیوں اور دیگر غیر ملکی کارکنوں کی ایک چھوٹی سی تعداد بیرون ملک سفر کے بغیر امریکہ میں ان ویزوں کی تجدید کر سکے گی۔ یہ ایک پائلٹ پروگرام ہوگا جسے آنے والے سالوں میں بڑھایا بھی جا سکتا ہے۔

بھارتی شہری اب تک امریکی ایچ ون بی پروگرام کے سب سے زیادہ فعال صارفین ہیں اور مالی سال 2022 میں تقریباً ’’ ایچ بی ون‘‘ کے تحت امریکہ میں موجود 4 لاکھ 42 ہزار افراد میں سے 73 فیصد بھارتی تھے۔

ایک اور امریکی اہلکار نے کہا کہ ہم سب تسلیم کرتے ہیں کہ ہمارے لوگوں کی امریکہ آمد ہمارے لیے ایک بہت بڑا اثاثہ ہے۔ سٹیٹ ڈپارٹمنٹ پہلے سے ہی چیزوں میں تبدیلی لانے کے لیے تخلیقی طریقے تلاش کرنے کے لیے بہت محنت کر رہا ہے۔

محکمہ خارجہ کے ترجمان نے ان سوالوں پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا کہ بھارتی شہری ویزا کی کون سی اقسام کے اہل ہوں گی۔ ترجمان نے چھوٹے گروپ کی وضاحت کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ یہ پائلٹ پراجیکٹ اگلے ایک سے دو سالوں میں پہل کی پیمائش کرنے کے ارادے کے ساتھ بہت کم مقدمات کے ساتھ کام شروع کرے گا۔

ہر سال امریکی حکومت ہنر مند غیر ملکی کارکنوں کی تلاش کرنے والی کمپنیوں کو 65 ہزار ’’ ایچ ون بی‘‘ ویزے فراہم کرتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اعلی درجے کی ڈگریوں کے حامل کارکنوں کے لیے اضافی 20 ہزار ویزے دئیے جاتے ہیں۔ یہ ویزے تین سال کے لیے ہوتے ہیں جن میں مزید تین سال کی توسیع کی جا سکتی ہے۔

امریکی حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق حالیہ برسوں میں سب سے زیادہ H-1B کارکنوں کا استعمال کرنے والی کمپنیوں میں ہندوستانی انفوسس اور ٹاٹا کنسلٹنسی سروسز کے ساتھ ساتھ امریکہ میں ایمازون، الفابیٹ اور میٹا کمپنیاں بھی شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں