جرمن خاتون کو یزیدی عورت کو غلام بنانے پر جیل بھیج دیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

جرمنی کی ایک عدالت نے بدھ کو ایک جرمن خاتون کو یزیدی خاتون کو غلام بنانے، ساتھ ہی داعش کی رکن کے طور پر جنگی جرائم میں مدد کرنے اور نسل کشی میں معاونت کرنے پر 9 سال قید کی سزا سادی ۔

مغربی شہر کوبلنز کی عدالت کے ترجمان نے بتایا کہ 37 سالہ جرمن مدعا علیہ جس کی شناخت صرف ’’نادین کے‘‘ کے نام سے ہوئی ہے کو انسانیت کے خلاف جرائم اور ایک غیر ملکی دہشت گرد تنظیم کی رکنیت کا مجرم بھی پایا گیا تھا۔

مدعا علیہ خاتون دسمبر 2014 اور مارچ 2019 کے درمیان داعش کی رکن رہی۔ ’’نادین کے‘‘ اپنے شوہر کے ساتھ دہشت گرد گروپ میں شامل ہونے کے لیے شام گئی تھی۔ 2015 میں یہ جوڑا عراق میں موصل گیا اور پھر واپس شام چلا گیا۔

اپریل 2016 سے اس جوڑے نے ایک یزیدی خاتون کو غلام بنا کر رکھا تھا ۔ اس یزیدی عورت کو 2014 میں داعش نے قید کیا تھا۔

’’نادین کے‘‘ نے اس عورت کو جو اس وقت 22 سال کی تھی کو بھاگنے سے روکنے کے لیے اپنے گھر میں کام کرنے پر مجبور کیا۔ نادین کے کے شوہر نے یزیدی خاتون کو باقاعدگی سے زیادتی کا نشانہ بنایا اور مارا پیٹا تھا۔ اس کا علم نادین کو بھی تھا۔

استغاثہ نے اس سال کے اوائل میں مقدمہ کے آغاز میں ہی کہا تھا کہ یہ سب یزیدی عقیدے کو مٹانے کے لیے داعش کے اعلان کردہ مقصد کو پورا کرتا ہے۔ مدعا علیہ کو گزشتہ سال مارچ میں جرمنی واپسی پر کئی ایک کارروائیوں میں گرفتار کیا گیا تھا۔

نومبر 2021 میں جرمنی کی ایک عدالت نے یزیدی برادری کے خلاف جرائم کو نسل کشی کے طور پر تسلیم کرنے کے لیے دنیا بھر میں پہلا فیصلہ جاری کیا تھا۔ اس فیصلے کو اقلیتوں کی "تاریخی" جیت کے طور پر سراہا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں