شوہر کی یہودیت کا مذاق اڑانے پر یوکرینی خاتون اول کا پوتین کو جواب

یہ بہت شرمناک ہے، میں نہیں جانتی سیاسی تناظر میں آپ کسی کی نسل پر بحث کیسے کر سکتے ہیں: اولینا زیلنسکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

یوکرین کی خاتون اول اولینا زیلنسکا نے روسی صدر ولادیمیر پوتین پر تنقید کرنے کے لیے اپنی خاموشی توڑ دی ہے۔ انہوں نے گزشتہ ہفتے روسی صدر کی جانب سے اپنے شوہر کی یہودیت کا مذاق اڑانے کے خلاف بات کی اور کہا یہ بہت شرمناک ہے۔ میں نہیں جانتی کہ سیاسی تناظر میں آپ کسی کی نسل پر بھی بحث کر سکتے ہیں۔ پوتین نے اپنے بیان میں یوکرینی صدر کے یہودی ہونے کو یہودی عوام کی توہین قرار دیا تھا۔

پوتین نے جمعہ کو سینٹ پیٹرزبرگ میں منعقد اقتصادی فورم کے دوران کہا کہ "میرے بہت سے یہودی دوست ہیں، وہ کہتے ہیں کہ زیلینسکی یہودی نہیں ہے بلکہ یہودی لوگوں کی توہین ہے۔ میں مذاق نہیں کر رہا ہوں۔"

اولینا زیلنسکا نے اسرائیلی اخبار "دی یروشلم پوسٹ" کے ساتھ انٹرویو کے دوران کہا یہ بہت شرمناک ہے، میں نہیں جانتی کہ سیاسی تناظر میں آپ کسی کی نسل پر بالکل بھی بات کیسے کر سکتے ہیں۔

زیلنسکا نے اس امید کا اظہار کیا کہ اسرائیل روس کے فضائی حملوں کا زیادہ موثر انداز میں مقابلہ کرنے کے لیے یوکرین کو ارلی وارننگ سسٹم بھیجنے پر راضی ہو جائے گا۔ اسرائیل کے دورے پر آنے والی زیلنسکا نے کہا کہ میرے خیال میں یہ فیصلہ اسرائیل پر منحصر ہے کہ وہ یوکرین کو خاطر خواہ امداد فراہم کرے یا نہ کرے۔

اولینا نے مزید کہا ہم جانتے ہیں کہ اسرائیل میں بہت بڑی صلاحیت ہے اور ہم جانتے ہیں کہ ایسی ٹیکنالوجی ہے جس کی ہمیں اشد ضرورت ہے، لیکن یہ ان پر منحصر ہے۔

اسرائیل نے فروری 2022 میں شروع ہونے والے روسی فوجی آپریشن کے بعد یوکرین کو ہتھیاروں کی فراہمی سے گریز کیا۔ اس نے شام میں آپریشن کی آزادی کو برقرار رکھنے کے لیے اپنی تزویراتی ضرورت کو ہچکچکاہٹ کے جواز کے طور پر پیش کیا تھا۔ واضح رہے یوکرین پر روسی حملے کے بعد سے اسرائیل نے یو کرین کو 22.5 ملین ڈالر سے زیادہ کی انسانی امداد فراہم کی ہے۔

یورینی خاتون اول اولینا زیلنسکی
یورینی خاتون اول اولینا زیلنسکی

مارچ میںعبرانی میڈیا کی رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ اسرائیل نے پہلی مرتبہ یوکرین کو دفاعی فوجی نظام فروخت کرنے کی اجازت دی ہے کیونکہ انہیں ڈرون حملوں کو پسپا کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

واضح رہے پوتین نے جمعہ کو اعلان کیا تھا کہ ان کے ملک نے جوہری ہتھیاروں کا پہلا گروپ بیلاروس کو منتقل کر دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں