صدر بائیڈن اور مودی کی ملاقات، جنرل الیکٹرک کا بھارت میں جیٹ انجن بنانے کا معاہدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

امریکی صدر جو بائیڈن نے جمعرات کے روز بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ ملاقات میں دفاعی اور تجارتی معاہدوں کا اعلان کیا ہے اور،امریکا اور بھارت کے درمیان تعلقات مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

بائیڈن نے نریندرمودی کا جمعرات کے روز وائٹ ہاؤس ساؤتھ لان میں ہونے والی ایک رنگا رنگ تقریب میں استقبال کیا ہے۔مودی نے جمعرات کو وائٹ ہاؤس میں بائیڈن کے ساتھ صحافیوں کے سوالات کا جواب دینے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔واضح رہے کہ نریندر مودی نے نو سال قبل وزیر اعظم بننے کے بعد سے کوئی نیوز کانفرنس نہیں کی ہے اور ان کے دورے نے بھارت میں انسانی حقوق کے بارے میں خدشات کی طرف توجہ مبذول کرائی ہے۔

واشنگٹن چاہتا ہے کہ بھارت چین کا تزویراتی حریف بنے۔ وہ بھارت کو ایک اہم شراکت دار کے طور پر دیکھتا ہے۔نریندر مودی چین کے ساتھ کشیدہ تعلقات کے تناظر میں دنیا میں سب سے زیادہ ایک ارب چالیس کروڑ آبادی والے ملک بھارت کا عالمی سطح پر اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

بائیڈن انتظامیہ کے سینیرعہدے داروں کا کہنا ہے کہ سیمی کنڈکٹر، اہم معدنیات، ٹیکنالوجی، خلائی اور دفاعی شعبوں تعاون اور فروخت کے حوالے سے اعلان کردہ معاہدوں سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کے ایک نئے دور کا آغاز ہوگا۔

ان میں سے بعض معاہدوں کا مقصد چین پر انحصار کم کرنے کے لیے سپلائی چین کو متنوع بنانا ہے۔ امریکا نے بھارت اور آسٹریلیا جیسے ممالک کے ساتھ دفاعی تعلقات کو مضبوط بنا کر بحرہند اور بحرالکاہل کے خطے میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ سے نمٹنے کی بھی کوشش کی ہے۔

دونوں رہنما جنرل الیکٹرک کمپنی (جی ای) کو اجازت دینے کے معاہدے پر دست خط کریں گے۔ اس کے تحت امریکی کمپنی بھارت میں فوجی طیاروں کے لیے طاقتور جیٹ ایجن تیار کرے گی۔ جی ای نے کہا کہ اس نے انجنوں کی تیاری کے لیے ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت پر دست خط کیے ہیں۔

اس کے علاوہ خطے میں موجود امریکی بحریہ کے جہاز دونوں حکومتوں کے درمیان طے پانے والے سمندری معاہدے کے تحت مرمت کے لیے انڈیا شپ یارڈز میں رک سکیں گے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ دونوں رہنمابھارت کے امریکی ساختہ مسلح ایم کیو 9 بی سی گارڈین ڈرونز کی خرید کرنے کے منصوبے کا بھی اعلان کریں گے۔ان معاہدوں میں امریکی چپ بنانے والی کمپنی مائیکرون ٹیکنالوجی (ایم یو) بھی شامل ہوگی۔اس کے علاوہ وزیراعظم نریندرمودی کی آبائی ریاست گجرات میں تعمیر ہونے والے ایک نئے سیمی کنڈکٹر ٹیسٹنگ اور پیکیجنگ یونٹ کے لیے 2.7 ارب ڈالر کا منصوبہ اورہُنرمند بھارتی کارکنوں کے لیے امریکی ویزے کا حصول اور تجدید کا عمل آسان بنانے کا سمجھوتا شامل ہے۔

واضح رہے کہ صدر بائیڈن پر ان کے ساتھی ڈیموکریٹس کی جانب سے مودی کے ساتھ انسانی حقوق پر بات چیت کے لیے دباؤ ہے۔ تین ترقی پسند ڈیموکریٹس ایوان نمائندگان کے ارکان الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز، الہان عمر اور راشدہ طلیب نے کہا ہے کہ وہ جمعرات کو کانگریس سے مودی کے خطاب کا بائیکاٹ کریں گی۔

اوکاسیو کورٹیز نے بدھ کے روز ایک ٹویٹر پوسٹ میں کہا، "میں اپنے ساتھیوں کی حوصلہ افزائی کرتی ہوں جو کثرتیت، رواداری اور پریس کی آزادی کے حامی ہیں‘‘۔

مودی کے دورے کے موقع پراحتجاج کا ارادہ رکھنے والے انسانی حقوق کے حامیوں کا کہنا ہے کہ بائیڈن کو عوامی سطح پر نریندر مودی کے انسانی حقوق کے ریکارڈ کو اجاگر کرنا چاہیے کیونکہ امریکی انتظامیہ کی جانب سے ان کے ساتھ نجی طور پر معاملہ اٹھانے کے نقطہ نظر سے بھارت میں انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورت حال کا خاتمہ نہیں ہوا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں