چین کے ایک ریسٹورنٹ میں گیس لیکج دھماکہ میں 31 افراد ہلاک

دھماکہ شمال مغربی علاقے میں ہوا، چینی صدر کی حفاظتی اقدامات بہتر کرنے زخمیوں کے بہتر علاج کی ہدایت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

چین میں شمال مغربی شہر ’’ ین چوان‘‘ کے ایک ریسٹورنٹ میں خوفناک دھماکہ ہوگیا۔ اس دھماکے میں کم از کم 31 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی ’’ژنہوا‘‘ نے خطے کی کمیونسٹ پارٹی کی کمیٹی کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ایک باربی کیو ریسٹورنٹ میں مائع پٹرولیم گیس کے اخراج کی وجہ سے دھماکہ ہوا۔ دھماکہ میں 7 دیگر افراد زخمی ہوکر ہسپتال پہنچ گئے ہیں جن میں سے ایک کی حالت تشویشناک ہے۔

سرکاری "سی سی ٹی وی" چینل کے ذریعے نشر فوٹیج میں دکھایا گیا ہے کہ فائر فائٹرز دھماکے کی جگہ پر آگ بجھانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ ریسٹورنٹ کے سامنے والے خالی حصے سے دھواں اٹھ رہا تھا۔

شیشے کے ٹکڑوں اور دیگر ملبے نے تاریک میں افراتفری مچا دی۔ اس گلی میں کئی دیگر ریسٹورنٹس اور تفریحی دکانیں ہیں۔ دھماکہ مقامی وقت کے مطابق بدھ کی شام 8 بج کر 40 منٹ اور جی ایم ٹی وقت کے مطابق دوپہر 12 بج کر 40 منٹ پر ہوا ۔ دھماکہ فوانگ بار بی کیو ریسٹورنٹ میں ہوا۔ یہ علاقہ تین روزہ ڈریگن بوٹ تقریب کے مقام کے قریب واقع ہے۔

چینی صدر شی جن پنگ نے کہا ہے کہ زخمیوں کے علاج کے لیے زیادہ سے زیادہ کوششیں کی جائیں اور لوگوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے اہم شعبوں اور علاقوں میں حفاظتی اور انتظامی اقدامات کی نگرانی کو مضبوط بنایا جائے۔

ایمرجنسی مینجمنٹ کی وزارت نے کہا کہ مقامی فائر اینڈ ریسکیو سروسز نے دھماکے کے بعد 100 سے زائد افراد اور 20 گاڑیوں کو جائے حادثہ پر بھیجا۔ ہے۔ بچاؤ کی کوششیں جمعرات کی صبح 4 بجے تک مکمل کر لی گئیں۔

حفاظتی اقدامات کو بہتر بنانے کی کئی سالوں سے جاری کوششوں کے باوجود چین میں گیس اور کیمیائی دھماکوں سے ہونے والے حادثات معمول کی بات ہیں۔ 2015 میں شمالی بندرگاہی شہر تیانجن میں سلسلہ وار دھماکوں میں 173 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں