روس کیساتھ غیر معمولی سختی برتنے والی بائیڈن انتظامیہ کے اسرائیل کے ساتھ اختلافات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

امریکہ کو مشرق وسطیٰ میں متعدد سکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے۔ آغاز میں شام میں امریکی افواج کو روسی افواج کے چیلنج کا سامنا ہے۔ ایرانی ایٹمی پروگرام کی سرگرمیوں سے نمٹنے کا چیلنج الگ ہے۔ اس ساتھ امریکیوں ایران کی ملیشیاؤں کا خطرہ بھی درپیش رہتا ہے۔

ان تمام چیلنجز اور خطرات پر امریکیوں کے ردِ عمل کی شدت مختلف ہوتی ہے۔ بات جب روس کی ہو تو امریکہ کا رد عمل زیادہ سخت نظر آتا ہے۔

روسیوں کو روکنے کے لیے ایف ۔ 22 طیارے

گزشتہ ہفتوں کے دوران روسی افواج نے جان بوجھ کر التنف کے علاقے پر فضائی حدود کی خلاف ورزی کرڈالی اور امریکیوں کو اس حوالے سے شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑ گیا۔ تاہم روسی افواج نے دونوں فریقوں کے درمیان رابطے کی لائن کا استعمال کرتے ہوئے امریکیوں کو کوئی جواب نہیں دیا۔

روسی افواج، شام میں حمیمیم بیس
روسی افواج، شام میں حمیمیم بیس

14 جون کو امریکی سنٹرل کمانڈ نے اعلان کیا کہ روسی کارروائیوں کے پس منظر میں F-22 طیاروں کا ایک سکواڈرن خطے میں پہنچ گیا ہے۔ افواج کو دوبارہ منظم کرنے کے لیے فوری طور پر ایک اعلیٰ فورس کردی گئی ہے۔

روسیوں کو پیغام

ایک عسکری ذریعہ نے العربیہ ڈاٹ نیٹ اور الحادث ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے وضاحت کی ہے کہ "امریکہ نے یہ افواج روسیوں کو یہ باور کرانے کے لیے بھیجی ہیں کہ ہم اپنے فوجیوں کو کسی بھی خطرے سے بچانے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔"ہے کہ

ذریعہ نے کہا امریکیوں کا مطلب وہی ہے جو وہ اس حوالے سے کہ رہے ہیں اور F-22 سکواڈرن روسی افواج کے ساتھ تصادم کے لیے تیار ہے۔ اس تصادم کا بظاہر امکان اس لیے نہیں ہے کیونکہ ہم جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی انہیں تباہ کرنے کے قابل ہیں

یہ امریکی گفتگو روسی افواج کے خلاف امریکہ کی غیر معمولی سختی کو ظاہر کر رہی ہے۔ یہ گفتگو اپنی شدت اور پیچیدگی میں بھی پہلے سے مختلف ہے۔ یہ امریکی دھمکی امریکی فوجیوں کے تحفظ سے شروع ہوتی ہے اور کسی تیسرے ملک کی فضائی حدود میں روسی جنگی طیاروں کی بمباری پر ختم ہوتی ہے۔

ایران کے لیے امریکی نرم لہجہ

تاہم روسیوں کے برخلاف امریکہ کی یہ سختی ایران کے ساتھ نمٹنے میں واضح نرمی میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ یہ بات یقینی طور پر ثابت ہوگئی ہے کہ امریکی صدر بائیڈن کی انتظامیہ ایٹمی پروگرام کو روکنے کے لیے ایرانیوں کے ساتھ بات چیت کے لیے رابطے کے ایک سے زیادہ ذرائع استعمال کر رہی ہے۔

بائیڈن انتظامیہ نے ایک سے زیادہ مرتبہ واضح کیا ہے کہ وہ تہران کو ایٹم بم حاصل کرنے سے روکنے کے لیے جو کچھ بھی کرنا ہو گا کرے گی۔ موجودہ انتظامیہ کے ترجمان نے کہا تھا کہ "تمام آپشنز میز پر ہیں"۔ انہوں نے ضرورت پڑنے پر فوجی طاقت کے استعمال کا حوالہ بھی دیا تھا۔

شام سے
شام سے

مزید برآں سینٹ کام نے ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کے خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنے علاقے میں فضائی دفاع کو مربوط کرنے کے لیے گزشتہ دو سالوں میں سخت محنت کی ہے۔

امریکہ کے بی 52 اور بی 21 جیسے تزویراتی طیاروں نے بھی خطے میں پروازیں کی ہیں اور اسرائیل سمیت خطے کے دیگر ملکوں کی فضائی افواج کے ساتھ امریکی افواج کی بڑی صلاحیتوں کو ضم کرکے تربیتی مشقیں کی گئی ہیں۔

امریکہ کے اب تک یہ اقدامات اور بیانات ایک پیشکش کی طرح لگ رہے ہیں۔ امریکہ تہران کے ساتھ مذاکرات پر اصرار کر رہا ہے اور کسی نتیجے تک پہنچنے کے لیے بات چیت پر زور دے رہا ہے۔

ایرانی ملیشیاؤں پر امریکی رد عمل

حالیہ تناظر میں ایرانی ملیشیاؤں کے عراق، شام، لبنان میں پھیلاؤ اور یمن میں ایرانی اثر و رسوخ کے متعلق امریکہ کے موقف پر ایک بڑا سوالیہ نشان موجود ہے۔

ریاست ہائے متحدہ امریکہ نے ڈیموکریٹس کی اقتدار میں واپسی کے بعد سے ایرانی ملیشیاؤں کے پھیلاؤ کے معاملہ پر "پرسکون" رہنے کی کوشش کی ہے۔ ان ملیشیاؤں کی پرزور مخالفت نظر آرہی نہ ان کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے فوجی ذرائع استعمال کرنے کی کوشش سامنے آسکی ہے۔

اس حوالے سے امریکہ نے ریاستوں کی خودمختاری اور حکومتوں کے اپنی تمام زمینوں پر کنٹرول کی ضرورت بیان کرکے خود کو مطمئن کر لیا ہے۔

امریکہ نے ان ملیشیاؤں کے ساتھ کام کرنے والے کچھ لوگوں پر پابندیاں عائد کیں، زیادہ تر پابندیاں ان لوگوں کے ایک ایسی سرگرمی میں ملوث ہونے سے متعلق ہیں جسے امریکہ قانونی نقطہ نظر سے غلط سمجھتا ہے۔ ایرانی ایٹمی پروگرام میں مدد کرنا یا دہشت گرد تنظیم کی مالی معاونت کرنا جیسے امور شامل ہیں۔ امریکہ کی طرف سے عراق میں حزب اللہ اور ریاستی ملیشیا کے افراد پر پابندیاں لگائی گئی ہیں۔

یہ منظر نامہ 2014 اور 2015 کے اواخر میں ہونے والے واقعات کی تکرار کے مترادف ہے جب باراک اوباما کی سربراہی میں امریکہ نے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کی منظوری دی تھی جیسے ہی اس نے ایٹمی منصوبے پر لگام ڈالی تہران کو اربوں ڈالر ملے اور امریکہ نے ایرانی ملیشیاؤں کی کارستانیوں پر اپنی آنکھیں بند کرلی تھیں۔

اسرائیل سے متعلق امریکی طرز عمل

دوسری جانب گزشتہ چند ماہ میں کئی امریکی اسرائیلی ملاقاتیں ہوئیں اور امریکہ نے اسرائیل کے تحفظ اور سلامتی کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے لیکن ایران اور اس کی ملیشیاؤں کے معاملے پر اسرائیلی امریکی تنازع وسیع ہوتا نظر آرہا ہے۔

اسرائیلی بائیڈن انتظامیہ پر تنقید کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ سفارت کاری پر انحصار امریکی انتظامیہ کو پیشگی کمزور پوزیشن میں ڈال دے گا۔ بالکل اسی طرح جیسے ایران ڈیٹرنس کے اشاروں کا جواب نہیں دیتا بلکہ اپنے ایٹمی پروگرام کو وسعت دینے اور میزائل اور ڈرون پروگرام پر عمل پیرا رہتا ہے۔

اسرائیلی یہ بھی سمجھتے ہیں کہ ایران امریکی پابندیوں کے باوجود برقرار رہنے کے قابل ہے اور اس نے بدامنی کے دوران بھی اندرونی حالات کو کنٹرول کر لیاتھا۔ اسرائیلیوں کا یہ بھی خیال ہے کہ امریکی فوجی آپشن کی عدم موجودگی میں ایرانی جو چاہیں گے لے لیں گے۔

خاص طور پراسرائیلیوں نے ایران کے ایٹمی پروگرام کو سست کرنے نا کہ ختم کرنے کے بدلے میں رقم حاصل کرنے کا معاملہ اٹھایا۔ اسرائیل کا خیال ہے ایرانی اس رقم کو اپنی معیشت کی بحالی، ایرانی پاسداران انقلاب کی صلاحیتوں کو مالی اعانت فراہم کرنے اور ان سے منسلک ملیشیاؤں کی مدد کے لیے استعمال کرے گے۔

ملیشیاؤں پر اسرائیلی حملوں پر امریکہ کیا کر رہا

گزشتہ برسوں میں ایرانی مقامات پر خاص طور پر شام میں بڑے پیمانے پر اسرائیلی حملے دیکھنے میں آئے۔ امریکی خطے میں بہت سی فوجی اور جاسوسی صلاحیتوں کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ اسرائیلی سمجھتے ہیں کہ انہوں نے بائیڈن کے دور میں بہت زیادہ تحمل کا مظاہرہ کیا ہے کیونکہ انہوں نے ایرانی انقلابی گارڈ کو نقصان پہنچائے بغیر محدود چھاپوں کے ساتھ اپنی پوزیشنوں پر حملہ کرنے والی ملیشیاؤں کا جواب دیا ہے۔

اسرائیلیوں نے گزشتہ چند ماہ کے دوران امریکیوں کو خبردار کیا ہے کہ یہ ملیشیا ایرانی اثر و رسوخ کی توسیع ہے جو روز بروز جڑ پکڑ رہی ہے۔ تل ابیب شام کی سرزمین میں تیار کیے جانے والے اور لگائے جانے والے ایرانی ہتھیاروں کو نشانہ بنانے کے لیے کام کر رہا ہے۔ اسرائیل نے یہ بھی باور کرایا کہ وہ گولان کی سرحدوں سے ملیشیا کے ارکان کو ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ لبنانی منظر نامے کو دوبارہ نہ دہرایا جائے۔

امریکی قومی سلامتی کے مشیر سمیت اسرائیل ہم منصبوں کے ساتھ مشترکہ بیانات دینے والے امریکی عہدیداروں کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے امریکہ اور اسرائیل دونوں ایران کی وفادار ملیشیاؤں کا مقابلہ کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم ان ملیشیاؤں کی بنیاد پرستی کو محدود کرنے کا واحد عمل اب بھی یک طرفہ ہے۔

اسرائیلی فوج کے ایک سابق ترجمان اور ریزرو افسر جوناتھن کونریکس نے بتایا ہے کہ اسرائیلیوں نے امریکیوں کو خبردار کیا ہے کہ ان ملیشیاؤں کی موجودگی اگلے چند مہینوں یا سالوں میں خطے کو بڑی انتشار کی طرف دھکیل دے گی۔ ان ملیشیاؤں سے ابھی نمٹنا ہوگا۔ ان کے بہ قول ایرانی ملیشیائیں اس وقت تک پھیلتی رہیں گی جب تک امریکی انتظامیہ ایران کو اپنی ملیشیاؤں کے اعمال کی سزا دینے کا اصول نہیں اپناتی۔

دوسری طرف امریکی بتاتے ہیں کہ یہ معاملہ میز پر ہی نہیں ہے اور اس حوالے سے واحد فریق جو فوجی ذرائع کے استعمال کی بات کر رہا ہے وہ اسرائیل ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں