سعودی عرب: نیوم کے ذیلی منصوبہ ’دا لائن‘ کی تازہ تفصیل کی رونمائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

سعودی عرب کا انقلابی منصوبہ دا لائن تکمیل کی راہ پر گامزن ہے۔ یہ 170 کلومیٹر طویل شہر ہوگا جس میں بالآخر نوّے لاکھ افراد رہائش پذیر ہوں گے اور یہ مملکت کے 500 ارب ڈالر کے جدید شہری میگا منصوبے نیوم کا دھڑکتا ہوا دل ہوگا۔

دا لائن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر جائلز پینڈلٹن نے کہا کہ عمودی طور پر یہ مربوط شہر کامیابی سے تعمیراتی مراحل طے کررہا ہے۔ یہ کاروں سے پاک ہوگا، یہاں کاربن کا اخراج صفرہوگا، یہ مکمل طور پر صاف توانائی پر منحصر گا اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے چلایا جائے گا۔

اس کی تعمیر اپریل 2022 میں شروع ہوئی تھی۔شہر کا پہلا علاقہ مرینا 2030 تک یا اس سے پہلے رہائشیوں اور زائرین کے خیرمقدم کو تیار ہوگا۔

پینڈلٹن نے العربیہ کو بتایا کہ "دہائی کے آخر تک اپنے پہلے رہائشیوں اور مہمانوں کا استقبال کرنے کے لیے ایک ٹائم لائن مقرر کی گئی ہے، نیوم میں ہماری پروجیکٹ ٹیم اس جدید شہر کی تعمیر کے لیے پوری تن دہی سے کام کر رہی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ہماری موجودہ صورت حال سے ظاہر ہوتا ہے کہ قریباً 20 فی صد ضروری انفراسٹرکچر پہلے ہی موجود ہے۔ ہم نقل و حمل کے مضبوط نیٹ ورکس، موثر یوٹیلیٹی سسٹم، اور محتاط شہری منصوبہ بندی جیسے اہم عناصر کی ترقی پر غور کر رہے ہیں- یہ سب کامیابی اور فعالیت کے لیے ضروری ہیں۔

پینڈلٹن کا کہنا تھا کہ 'جدید تعمیراتی طریقوں کا استعمال کرتے ہوئے 'پرزوں کی کٹ' کا استعمال کرتے ہوئے لائن کو روایتی تعمیرات کے مقابلے میں تیز، محفوظ، زیادہ مؤثر، زیادہ پائیدار اور مستقل طور پر زیادہ معیاری تعمیر کیا جاسکتا ہے۔

پوشیدہ مرینا کی تعمیر

آیندہ ہفتوں میں، پوشیدہ مرینا کی کھدائی اپنے عروج پر پہنچ جائے گی اور بنیاد کا کام دنیا کا اب تک کا سب سے بڑا آپریشن بن جائے گا۔

پینڈلٹن نے کہا:’’ہمارے آپریشنز کی کارکردگی اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے، ایک مربوط کنٹرول سنٹر (آئی سی سی) ہمیں چوبیس گھنٹے سائٹ پر سرگرمیوں کے ہر پہلو کو دیکھنے میں مدد دیتا ہے۔یہ مسلسل نگرانی ہمیں درستی، پروجیکٹ مینجمنٹ اور جوابدہی کے اعلیٰ ترین صنعتی معیارات پر عمل کرنے کے قابل بناتی ہے، اس طرح صحت، حفاظت اور ماحولیاتی معاملات کو ترجیح دیتے ہوئے پیداواری صلاحیت اور کارکردگی میں اضافہ ہوتا ہے‘‘۔

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی منصوبہ بندی کے مطابق یہ لائن دنیا کی سب سے زیادہ پرعزم پائیدار شہری منصوبوں میں سے ایک نیوم کا مرکز ہوگی۔ بحیرہ احمر کے کنارے سعودی عرب کا فلیگ شپ بزنس اور سیاحتی ترقی نیوم مکمل ہونے کے بعد اسمارٹ ٹاؤنز، بندرگاہوں، تحقیقی مراکز، کھیلوں اور تفریحی مقامات اور سیاحتی مراکز کا گھر بن جائے گا۔

اس کے تحت پہلا منصوبہ لگژری جزیرہ سندالہ اور یہ مکمل ہونے والا ہے۔ یہ 2024 میں ریڈ کوسٹ ریزورٹ میں مہمانوں کا استقبال کرے گا۔نیوم کے دیگر منصوبوں میں اوکساگون نمایاں ہے،جسے "دنیا کا سب سے بڑا تیرتا ہوا ڈھانچا" کہا جاتا ہے۔یہ نیوم اور ٹروجینا کا کاروباری اور صنعتی بازو ہوگا۔اس میں پرتعیش پہاڑی ریزورٹ کی زائرین سال بھر سیر کرسکیں گے۔

نیوم میں ٹروجینا پراجیکٹ کی ایک خیالی تصویر۔
نیوم میں ٹروجینا پراجیکٹ کی ایک خیالی تصویر۔

لیکن یہ دنیا کا پہلا شہر ہے جو مکمل طور پر قابل تجدید توانائی اور ہائیڈروجن سے چلے گا، اور دنیا کا پہلا صفر کشش ثقل عمودی شہر ہے ، جس نے دنیا بھر کی توجہ حاصل کی ہے۔

پینڈلٹن نے منصوبے کو پیمانے اور سائز کے لحاظ سے سیاق و سباق میں پیش کرنے کے لیے کچھ اعداد و شمار پیش کیے ہیں۔ہم سائٹ پرنوکروڑ میٹر سے زیادہ مواد منتقل کر رہے ہیں. 2024 کے آخر تک 30 ہزار سے زیادہ ستون جائیں گے۔ان میں سے ہر ایک کی گہرائی 50 میٹر اور چوڑائی 2.5 میٹر تک ہوگی۔ہمارے منصوبے کے بڑے پیمانے کو کوالالمپور کے پیٹروناس ٹاورز سے موازنہ کرکے سمجھا جاسکتا ہے ، جس میں سے ہر ایک میں 104 ستون ہیں۔

پینڈلٹن نے کہا کہ عمودی شہر کا خیال "ہمارے شہروں کے ڈیزائن، تعمیر اور آپریشن کے لیے ایک نیا ماڈل قائم کرنے کی فوری ضرورت کو تسلیم کرتا ہے۔لہٰذا نیوم نے علاقائی منصوبہ بندی کا ایک مقابلہ منعقد کیا جس میں فن تعمیر اور ڈیزائن کے معروف ناموں کو حصہ لینے کے لیے مدعو کیا گیا۔ اس کے بعد ہم نے دنیا کے معروف معماروں، ڈیزائنروں اور شہری مفکرین کے ساتھ کام کیا۔انھوں نے دا لائن کے ڈیزائنوں میں حصہ لیا اور اس اہم شہری انقلاب میں اہم کردار ادا کیا۔

انھوں نے کہا کہ دی لائن شہری ترقی کے تصور کو از سر نو ترتیب دے گی کہ مستقبل کے شہروں کو کیسا ہونا چاہیے۔ دی لائن شہروں کی ترقی کے لیے ایک اہم ماڈل کے طور پر کام کرے گی، فطرت کے تحفظ، انسانی زندگی اور انسانی ترقی کے لیے ایک انقلابی نقطہ نظر اپنائے گی۔آٹوموبائل اور ان سے وابستہ بنیادی ڈھانچے سے محروم، عمارتوں اور عوامی مقامات کو سہ جہتی انداز میں دوبارہ ترتیب دیا جاتا ہے، جس میں لوگوں کی ضروریات کو ترجیح دی جاتی ہے۔ یہ جدید ڈیزائن اہم چیلنجوں سے مؤثر طریقے سے نمٹ سکتا ہے ، بشمول شہری زمین کی بڑھتی ہوئی طلب، بڑھتی ہوئی سماجی اور معاشی عدم مساوات، اور آب و ہوا کی تبدیلی کے اثرات۔سفری سہولت کے لیے شہر میں ایک ہائپر ریل لنک بھی چلایا جائے گا اور نیوم کے سبز اقدار کے مطابق اسے قابل تجدید توانائی سے چلنے والے بجلی کے نظام کے ذریعہ چلایا جائے گا۔

مزید برآں ، لائن ایک ایسے شہر کے لیے ایک ماڈل کے طور پر کام کرتی ہے جو مکمل طور پر قابل تجدید توانائی کے ذرائع پر کام کرتی ہے اور پائیدار پانی اور خوراک کی پیداوار کے نظام کی حمایت کرتی ہے۔

معروف طبیعیات دان، سب سے زیادہ فروخت ہونے والے مصنف اور ٹیلی ویژن پیش کار پروفیسر میچیو کاکو نے حال ہی میں دا لائن کا دورہ کیا، یہ دیکھنے کے لیے کہ مستقبل کا شہر کس طرح ایک ساتھ آ رہا ہے۔

ان کے سفر کو 'پلیس میکرز' کے نام سے ایک نئی فلم میں دستاویزی شکل دی گئی ہے، جس میں اس بات کا جائزہ لیا گیا ہے کہ لائن کیسے اور کیوں تعمیر کی جا رہی ہے اور اس میں پروفیسر کاکو اور مستقبل کی اس جگہ کی تعمیر کرنے والے ماہرین کی آراء شامل ہے۔

فلم میں بات کرتے ہوئے پروفیسر کاکو نے کہا کہ دی لائن ٹریفک، آلودگی، عدم مساوات اورازدحام جیسے روایتی شہری چیلنجوں سے نمٹنے میں مدد دے سکتی ہے - ہم شاید صحرا سے باہر – ایک ایسا شہر تشکیل دے سکتے ہیں جو پائیدار، رہنے کے قابل ہو۔

وہ میگا پروجیکٹ کا خلاصہ ایک سادہ جملے میں بیان کرتے ہیں: "لائن ہمیں چیزوں کو کرنے کا ایک نیا طریقہ دکھاتی ہے۔ ایک خاکا، جس کے ذریعے ہم مستقبل کے شہر بنا سکتے ہیں۔اس کے ذریعے دیگر ممالک اپنے منصوبوں کا موازنہ سعودی عرب میں ہونے والے منصوبوں سے کر سکتے ہیں۔ ہم نسل انسانی کا مستقبل تخلیق کر رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں