مہم جوئی پر روانگی کے ایک گھنٹہ 45 منٹ بعد ہی آبدوز ’’ٹائٹن‘‘ پھٹ گئی تھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

امریکی کوسٹ گارڈ کی جانب سے کیپ کوڈ میساچوسٹس سے تقریباً 1450 کلومیٹر مشرق اور سینٹ جانز سے 644 کلومیٹر جنوب میں 3810 میٹر کی گہرائی میں مشہور ’’ٹائٹینک‘‘ بحری کے ملبے کے قریب آبدوز ’’ٹائٹن‘‘ کی باقیات کو دریافت کرنے کے اعلان کے بعد نیو فاؤنڈ لینڈ کینیڈا نے نئی معلومات کا انکشاف کیا ہے۔

پانچ مسافروں پر مشتمل سیاحتی آبدوز کی تلاش میں شامل اہلکاروں نے انکشاف کیا کہ دشمن کی آبدوزوں کا پتہ لگانے کے لیے بنائے گئے خفیہ ملٹری اکوسٹک ڈٹیکشن سسٹم نے پہلی مرتبہ اس بات کا پتہ لگایا ہے جس کا کہ ٹائٹن آبدوز کے اندر ایک دھماکہ اس کے سفر کے آغاز کے چند گھنٹے بعد ہوگیا تھا۔ امریکی بحریہ کو پہلے ہی دھماکہ ہونے کا شبہ تھا۔

ایک امریکی دفاعی عہدیدار نے بتایا کہ کہ آبدوز کے مواصلاتی رابطے ختم ہوتے ہی بحریہ نے آوازیں سننا شروع کر دی تھیں۔ اتوار کو آبدوز کے لاپتہ ہونے کے کچھ ہی دیر بعد ہی امریکی نظام نے جمعرات کو دریافت ہونے والے ملبے کے مقام کے قریب ایک دھماکے کی آواز کا پتہ لگایا اور اس کے نتائج کی اطلاع اس جگہ پر موجود کوسٹ گارڈ کمانڈر کو دی۔

وال سٹریٹ جرنل کے مطابق حکام نے کہا کہ اگرچہ بحریہ قطعی طور پر یہ نہیں کہہ سکتی کہ آواز ٹائٹن سے آئی ہے تاہم اس دریافت نے بحری جہاز کی تلاش کو کم کرنے میں کردار ادا کیا۔

امریکی بحریہ کے ایک سینیئر عہیدار نے یہ بھی وضاحت کی کہ آڈیو ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا۔ یہ آواز ٹائٹن کے لاپتہ ہونے کے مقام کے آس پاس کی تھی اس کے ساتھ ایک بے ضابطگی کا پتہ چلا۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ معلومات تلاش کے مشن میں مدد کے لیے فوری طور پر کوسٹ گارڈ کے ساتھ شیئر کی گئیں۔ ۔حالانکہ اس کی حتمی طور پر تصدیق نہیں کی گئی۔

امریکی کوسٹ گارڈ کے ایڈمرل جان ماؤگر نے جمعرات کی شام ایک پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ کینیڈا کے جہاز سے بھیجی گئی گہرائی میں غوطہ لگانے والی ایک خودکار گاڑی نے بحر اوقیانوس کی تہہ میں آبدوز ٹائٹن کا ملبہ دریافت کرلیا یہ ملبہ ٹائٹینک بحری جہاز کی کمان سے 488 میٹر کی مسافت پر تھا۔

اس کے علاوہ، کوسٹ گارڈ کے حکام نے ٹائٹن کے ملبے کے پانچ بڑے حصوں کی دریافت کا اعلان کیا جو 6.7 میٹر لمبے ہیں۔ ان حصوں میں ٹیل کون اور آبدوز کے ہل کے دو حصے شامل ہیں۔ تاہم اس بات کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا کہ آیا اس مقام پر انسانی باقیات دیکھی گئی ہیں یا نہیں۔

واضح رہے ٹائٹن کو امریکہ میں قائم اوشین جیٹ ایکسپیڈیشنز کے ذریعے چلایا جاتا ہے۔ اتوار کی صبح اسے دو گھنٹے کے سفر پر روانہ کیا گیا تھا لیکن تقریباً ایک گھنٹہ 45 منٹ کے بعد اس کا امدادی جہاز سے رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔

آبدوز ٹائٹن
آبدوز ٹائٹن

آبدوز میں برطانوی ارب پتی ہمیش ہارڈنگ (58 سال)، پاکستانی نژاد تاجر شہزادہ داؤد (48 سال) ، ان کا بیٹا سلیمان (19 سال) سوار تھے۔ یہ دونوں برطانوی شہری تھے۔ فرانسیسی ایکسپلورر پال ہنری نرگولٹ ( 77 سال) بھی بحری جہاز پر تھے۔ ٹائیٹینک کا ملبہ دیکھنے کے اس سفر کے لیے ہر ایک نے اڑھائی لاکھ ڈالر ادا کیے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں