پانچ امیر لوگ اور 750 تارکین وطن: تصویریں دو اور انجام ایک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اتوار سے ہی دنیا بھر میں لوگوں کی سانسیں بند ہوتی دکھائی دیں جب معلوم ہوا کہ 1912 میں ڈوبنے والے مشہور ٹائٹینک کے ملبے کو دیکھنے کے سیاحتی سفر جانے والے پانچ افراد کی آبدوز بحر اوقیانوس کی تہہ میں لاپتہ ہوگئی۔

دوسری جانب اس سانحے سے چند روز قبل یونان کے قریب ایک اور کشتی ڈوب گئی جس میں 750 تارکین وطن اپنے اپنے ملکوں سے بھاگ کر روزگار کی تلاش میں یونان جارہے تھے۔ کشتی میں زیادہ تر شامی، مصری اور پاکستانی سوار تھے۔

دو تصاویر یا سمندر میں ان دو مناظر کا اختتام سانحہ پر ہوا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی انسان کی موت میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔

تاہم دونوں معاملات پر دنیا کے رد عمل کا واضح فرق اس وقت سامنے آیا کہ جب کچھ بین الاقوامی میڈیا نے دنیا کے دو رخی کو بیان کیا۔

سابق امریکی صدر براک اوباما نے گزشتہ گھنٹوں کے دوران کئی برطانوی اخبارات کے ساتھ ساتھ اس کی طرف اشارہ کیا۔

جمعرات کو ایک لیکچر کے دوران اپنی ایک تقریر میں اوباما نے دونوں واقعات کو چھوتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ سانحہ ایک ہی ہے لیکن دونوں مناظر کی میڈیا کوریج بالکل بھی منصفانہ نہیں تھی۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ ٹائٹن آبدوز کی خبروں اور پیشرفت کی کوریج جسے امریکہ میں قائم اوشین گیٹ ایکسپیڈیشنز کمپنی چلاتی ہے کو پانچ مسافروں کی تلاش میں بحر اوقیانوس میں دنیا بھر میں قریبی فالو اپ اور بین الاقوامی الرٹ موصول ہوا ہے۔

آبدوز میں برطانوی ارب پتی ہمیش ہارڈنگ (58 سال)، پاکستانی نژاد تاجر شہزادہ داؤد (48 سال) ، ان کا بیٹا سلیمان (19 سال) سوار تھے۔ یہ دونوں برطانوی شہری تھے۔ فرانسیسی ایکسپلورر پال ہنری نرگولٹ ( 77 سال) بھی بحری جہاز پر تھے۔

آبدوز ٹائٹن کے متاثرین
آبدوز ٹائٹن کے متاثرین

دوسری طرف غیر قانونی امیگریشن کشتی یونان کے ساحل پر ڈوب گئی جس میں خواتین اور بچوں سمیت 750 افراد سوار تھے۔ 43 سال کے محمد الحصری کے مطابق یہ کشتی چار دن تک سمندر میں موجود رہی اور کوئی بھی اس کی مدد کے لیے نہیں آیا۔ عرب ورلڈ نیوز ایجنسی نے بتایا کہ الحصری تین بچوں کا باپ اور زندہ بچ جانے والوں میں سے ایک ہے۔

موت کے ان دو سفروں کے مسافروں نے اپنے اپنے حساب سے سفر کے لیے بھاری قیمت ادا کی تھی۔

ٹائٹن پر سوار پانچ امیر کبیر افراد نے فی کس اڑھائی لاکھ ڈالر ادا کیے تھے۔ مہاجر کشتی کے تارکین وطن نے اوسط 5 ہزار سے 10 ہزار ڈالر قیمت ادا کی تھی۔ سب سے اہم اور سب سے تکلیف دہ بات یہ ہے کہ ان سب نے اپنی جان سے وہ قیمت ادا کی جس کی تلافی دنیا کے پیسوں سے نہیں ہو سکتی!

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں