’’ ٹائٹن‘‘ کو دباؤ نے ٹکڑے ٹکڑے کردیا، 5 افراد نے آخری لمحات میں کیا محسوس کیا ہوگا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

آبدوز "ٹائٹن" کے امیر لوگوں کو معلوم نہیں تھا کہ وہ اپنی اس سیاحتی سفر پر روانہ ہوں گے تو اس کا چرچا دنیا بھر میں ہو جائے گا۔

اتوار کی صبح ان کی آبدوز کے لاپتہ ہونے کے بعد سے آبدوز ’’ ٹائٹن‘‘ میں سوار 5 افراد نیوز بلیٹن سے غائب نہیں ہو رہے اور ہر طرف ان کا چرچا ہو رہا ہے۔ یہ ایک بدنصیب اتوار بن گیا ہے۔

اس آبدوز سے دھوکہ کھانے والے افراد نے آخری وقت میں کیا محسوس کیا تھا؟ اس حوالے سے بحریہ کے ایک سابق ڈاکٹر نے انکشاف کیا ہے کہ 1912 میں ٹائٹینک کے ڈوبنے کے مقابلے میں ٹائٹن کے متاثرین نے کیا تجربہ کیا تھا۔

امریکی بحریہ کے لیے زیر سمندر ادویات اور ریڈیولاجیکل ہیلتھ کے سابق ڈائریکٹر ڈاکٹر ڈیل مولی نے کہا کہ اموات تیز اور بے درد تھیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ سمندر کی گہرائی میں موجود غیر معمولی قوتیں موت کو تیز کر دیتی ہیں۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ یہ معاملہ بڑا حیران کن ہو سکتا ہے کیونکہ متاثرین کو یہ بھی نہیں معلوم تھا کہ کوئی مسئلہ ہے اور ان کے ساتھ آگے کیا ہونے والا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ یہ ایک ایسا منٹ ہے جس میں لائف کو سوئچ آف کر دیا گیا ہے۔ اس میں انسان ایک سیکنڈ میں زندہ اور دوسرے میں مردہ ہوتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ دباؤ کا مرکز وہ کمرہ ہے جس میں مسافر رہتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے وہ نیچے تک پہنچ گئے تو پریشر برتن پھٹ گیا۔ اس طرح کے بڑے دباؤ میں چیز ایک ہی وقت میں پھٹ جاتی ہے۔ انہوں نے کہا "وہ ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے تھے"

انہوں نے بتایا کہ یہ اندرونی دھماکہ اس وقت ہوتا ہے جب دباؤ کی لہر اندر کی طرف ہوتی ہے۔ دھماکا اس وقت ہوتا ہے جب دباؤ کی لہر یا صدمے کی لہر کسی بھی ذریعہ سے باہر آتی ہے۔ اس کی مثال ایسے ہوتی ہے جیسے غبارہ کو حد سے زیادہ ہوا سے بھرا جائے تو وہ شدید دباؤ کے باعث یک دم پھٹ جاتا ہے۔

ایک ان کہا حادثہ

آبدوز ٹائٹن جسے امریکہ میں قائم اوشین گیٹ مہمات کے ذریعے چلایا جاتا ہے اتوار کی صبح دو گھنٹے کے سفر پر روانہ ہوئی لیکن تقریباً ایک گھنٹہ اور 45 منٹ بعد اس کا امدادی جہاز سے رابطہ منقطع ہوگیا۔

جہاز میں 58 سال عمر کے برطانوی ارب پتی ہمیش ہارڈنگ، پاکستانی نژاد تاجر 48 سالہ شہزادہ داؤد، ان کا بیٹا 19 سالہ سلیمان، 77 سال کی عمر کا فرانسیسی مہم جو پال ہنری اور ’’ اوشن جیٹ ایکپیڈیشنز‘‘ کے سی ای او رش سٹاکٹن موجود تھے۔ 1912 میں بحری جہاز ٹائٹینک کا ملبہ دیکھنے کے لیے انہوں نے اپنے اس سفر کے لیے اڑھائی اڑھائی لاکھ ڈالر ادا کیے تھے۔

کوسٹ گارڈ کے حکام نے ٹائٹن کے ملبے کے پانچ بڑے حصوں کی دریافت کا اعلان کیا ہے۔ ان حصوں میں ٹیل کون اور آبدوز کے ہل کے دو حصے شامل ہیں۔ گوسٹ گارڈ نے یہ واضح نہیں کیا کہ اس مقام پر انسانی باقیات بھی نظر آئی ہیں یا نہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں