خواتین نظر انداز، افغان سکولوں میں مردوں کے لیے ایک لاکھ نوکریاں مختص

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

افغانستان کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد سے اب تک متعدد خواتین اساتذہ اور منتظمین کو تدریسی شعبے میں ملازمتوں سے ہٹائے جانے کے بعد اب افغان طالبان تحریک کے رہنما، ہیبت اللہ اخوندزادہ نے وزارت تعلیم میں صرف مذہبی مدارس کے مردوں کے لیے 100,000 نئی ملازمتیں شامل کرنے کا حکم دیا ہے۔

توقع ہے کہ نئے عملے میں ان علماء کو شامل کیا جائے گا جنہوں نے طالبان رہنما کی تقرری میں تعاون کیا تھا، اور وہ ان مڈل اور ہائی اسکولوں میں خواتین اساتذہ اور منتظمین کی جگہ لیں گے جو طالبان کے افغانستان پر کنٹرول کے بعد سے بند ہیں۔

یہ فیصلہ سرکاری اسکولوں کے اساتذہ کی جانب سے تنخواہوں میں تاخیر، ان میں سے بعض کی جبری برطرفی اور ان کی جگہ طالبان علماء کی تقرری کے بارے میں بار بار کی جانے والی شکایات کے بعد سامنے آیا ہے، اس حقیقت کے باوجود کہ بہت سے طالبان ارکان کے پاس یونیورسٹی کی ڈگریاں نہیں ہیں۔

طالبان کو اس وجہ سے بھی اندرونی اور بیرونی تنقید کا سامنا ہے کہ مذہبی مدارس بچوں کو ہتھیاروں اور دھماکہ خیز مواد کے بارے میں تربیت دینے اور انہیں سخت مذہبی اسباق سکھانے کے مراکز بن گئے ہیں۔

ان میں "خودکش بم دھماکوں" اور غیر مسلموں کے قتل کی فضیلت کے اسباق بھی شامل ہیں۔

خواتین کو عوامی زندگی سے باہر کرنا

یہ بات قابل ذکر ہے کہ خواتین کی تعلیم سمیت کچھ معاملات پر زیادہ لچک دکھانے کے وعدوں کے باوجود، اگست 2021 میں طالبان کی اقتدار میں واپسی کے بعد ان معاملات کو نظر انداز کیا گیا۔

افغان حکومت نے دھیرے دھیرے خواتین کو عوامی زندگی سے باہر کر دیا۔ انہیں مردوں سے کم اجرت دینے کے بعد ملازمتوں سے ہٹا دیا۔ اور گذشتہ نومبر میں ان پر پارکوں، باغات، جموں اور عوامی سوئمنگ پولز میں جانے پر پابندی لگا دی گئی تھی۔

خواتین کو کسی مرد رشتہ دار یا محرم کے بغیر سڑکوں پر گھومنے سے بھی منع کر دیا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں