مغربی کنارا کشیدگی، مراکش نے ’’ابراہیم معاہدہ‘‘ ممالک کا سربراہی اجلاس ملتوی کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مغربی کنارے میں فلسطینی دھڑوں اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی بڑھنے اور اسرائیلی فوج کی کارروائیوں کے تناظر میں مراکش نے ’’ابراہیم معاہدے‘‘ سے متعلق سربراہی اجلاس ملتوی کردیا ہے۔ مراکش کی میزبانی میں یہ اجلاس اسرائیل اور معاہدے پر دستخط کرنے والے عرب ملکوں کے سربراہوں کی شرکت کے ساتھ ہونا تھا۔

مراکش کے وزیر خارجہ نے بتایا کہ اجلاس کو موسم گرما تک ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے میں بستیوں کی تعمیر کو بڑھانے کا فیصلہ کرنے اور جنین پر اسرائیلی حملے میں پانچ فلسطینیوں کے جاں بحق ہونے کے حوالے سے کیا گیا ہے۔

مراکش کے وزیر خارجہ نصر بوریتا نے کہا کہ یہ فیصلہ جزوی طور پر طے شدہ وقت سے آگے بڑھایا گیا ہے لیکن اس کی وجہ اسرائیل کی اشتعال انگیز اور یکطرفہ کارروائیاں ہیں۔ ایسی کارروائیاں خطے میں امن کی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں۔

انہوں نے مغربی کنارے میں جنین پر اسرائیلی فوج کے چھاپے کی مذمت کی اور مقبوضہ علاقے میں بستیوں کی توسیع کے اسرائیل کے فیصلے کو مسترد کر دیا جہاں فلسطینی ایک آزاد ریاست قائم کرنا چاہتے ہیں۔

مراکش نے کہا ہے کہ وہ اسرائیل فلسطین تنازع کے دو ریاستی حل کے حصے کے طور پر مشرقی القدس کے دارالحکومت والی ایک فلسطینی ریاست کے قیام کا خواہاں ہے۔
منصوبہ بند سربراہی اجلاس گزشتہ سال اسرائیل، بحرین، مراکش، متحدہ عرب امارات، امریکہ اور مصر کے درمیان اسرائیل کے صحرائے نجف میں منعقد ہونے والے اجلاس کے بعد منعقد کیا جا رہا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں