واگنر فورسز کی بغاوت غداری ہے، ہتھیار اُٹھائے تو سزا ملے گی: پوتین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

روسی صدر ولادیمیر پوتن کا کہنا ہے کہ ’واگنر گروپ کی فورسز کی جانب سے مسلح بغاوت غداری ہے اور جو روسی فوج کے خلاف ہتھیار اُٹھائے گا اسے سزا دی جائے گی۔‘

برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق روس کے صدر نے سنیچر کو ایک ہنگامی ٹیلی ویژن خطاب میں کہا کہ وہ روس کی حفاظت کے لیے سب کچھ کریں گے اور جنوبی شہر روستوف میں صورت حال کو مستحکم کرنے کے لیے ’فیصلہ کن کارروائی‘ کی جائے گی۔

کل رات واگنر کے کمانڈر ایوگنی پریگوزن کی طرف سے اعلان کردہ فوجی نافرمانی پر اپنے پہلے تبصرے میں روسی صدر ولادی میر پوتین نے اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی بغاوت کا جواب سخت، فیصلہ کن اور شدید ہوگا۔

اپنی نشری تقریر میں روسی صدر کا کہنا تھا کہ یہ کارروائیاں پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے مترادف ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ فاغر کے عناصر کو مسلح بغاوت میں گھسیٹا گیا تھا۔

غدار

فیصلہ کن لہجے میں روسی صدر نے زور دیا کہ جس نے بھی فوج کے خلاف ہتھیار اٹھائے وہ غدار ہے۔ انہوں نے کہا: "ان دھمکیوں پر ہمارا ردعمل ان لوگوں کے خلاف سخت اور شدید ہوگا جنہوں نے غداری کی۔"

واگنر کے کمانڈر ایوگنی پریگوزن
واگنر کے کمانڈر ایوگنی پریگوزن

اس کے علاوہ، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ فوج ریاست اور شہریوں کو تمام خطرات کے خلاف دفاع کرے گی، بشمول "اندر کے غدار"، جیسا کہ انہوں نے ایوگنی پریگوزن کا حوالہ دیتے ہوئے بیان کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں