واگنر سربراہ کا روس میں ’خون ریزی‘ سے بچنے کے لیے اپنی فورسز واپس بلانے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

روس میں آمادۂ بغاوت نیم فوجی ملیشیا واگنر کے سربراہ ایوگنی پریگوزن نے ہفتے کے روز ماسکو کی جانب قافلے کی شکل میں پیش قدمی کرنے والے اپنے جنگجوؤں کو لوٹنے کا حکم دیا ہے اور ان سے کہا کہ وہ ملک میں خون ریزی سے بچنے کے لیے اپنے اڈوں پر واپس چلے جائیں۔

پریگوزن نے اس سے پہلے کہا تھا کہ وہ روسی فوج کے اعلیٰ عہدے داروں کو ہٹانا چاہتے ہیں اور 'انصاف کی بحالی' چاہتے ہیں۔روسی صدر ولادی میر پوتین نے ان کے اس اقدام کو بغاوت قرار دیتے ہوئے اس کو فیصلہ کن انداز میں کچلنے کا اعلان کیا تھا۔

ویگنر سربراہ یوفگینی پریگوژن ، روسی صدر ولادی میرپوتین اور بیلاروس کے صدر الیگزینڈرلوکاشینکو۔ فائل تصویر۔
ویگنر سربراہ یوفگینی پریگوژن ، روسی صدر ولادی میرپوتین اور بیلاروس کے صدر الیگزینڈرلوکاشینکو۔ فائل تصویر۔

بیلا روس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو کے دفتر نے کہا ہے کہ انھوں نے صدر پوتین کی منظوری سے پریگوزن سے بات کی ہے اور واگنر ملیشیا کے سربراہ نے کشیدگی کم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

ایوگنی پریگوزن نے اپنی پریس سروس کی طرف سے جاری کردہ ایک آڈیو پیغام میں کہا کہ’’وہ واگنر ملٹری کمپنی کو ختم کرنا چاہتے تھے۔ ہم نے 23 جون کو انصاف کے لیے مارچ کا آغاز کیا۔ 24 گھنٹے میں ہم ماسکو سے 200 کلومیٹر دور رہ گئے۔ اس دوران میں ہم نے اپنے جنگجوؤں کے خون کا ایک قطرہ بھی نہیں بہایا‘‘۔

انھوں نے مزید کہا:’’اب وہ وقت آ گیا ہے جب خون بہایا جا سکتا ہے۔ اس بات کی ذمے داری کو سمجھتے ہوئے کہ ایک طرف روسی خون بہایا جائے گا، ہم اپنے دستوں کو لوٹا رہے ہیں اور منصوبہ بندی کے مطابق فیلڈ کیمپوں میں واپس جا رہے ہیں‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں