روس میں بغاوت

ہمارے 25 ہزار جنگجو مرنے کے لیے تیار ہیں: سربراہ واگنر گروپ

کیا واگنر نے دنیا کی دوسری بڑی فوج کے ساتھ سینگ پھنسانے کا پکا ارادہ کر لیا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

یوکرین میں روس کے لیے جنگ لڑنے والی نجی فوج واگنر گروپ کے سربراہ ایوگنی پریگوزن نے روسی فوجی قیادت کو عہدے سے ہٹانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے ہفتے کو کہا کہ ان کی 25 ہزار جنگجوؤں پر مشتمل فورس ’مرنے کے لیے تیار ہے۔‘

اپنے نئے آڈیو پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ’ہم سب مرنے کے لیے تیار ہیں۔ تمام 25 ہزار لوگ اور اس کے بعد پھر 25 ہزار۔ ہم روسی عوام کے لیے جان دے رہے ہیں۔‘

ایوگنی پریگوزن نے قبل ازیں کہا تھا کہ ان کی فوج جنہوں نے روس کے زیادہ تر حملے کی قیادت کی، روس کے جنوبی علاقے روستوف میں داخل ہو چکی ہے۔

تاہم انہوں نے اس سلسلے میں کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا اور اے ایف پی آزادانہ طور پر ان کے دعوے کی تصدیق نہیں کر سکا۔

دوسری جانب روس کے سرکاری خبر رساں ادارے تاس نے قانون نافذ کرنے والے ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہا ہے ماسکو میں حکام نے حفاظتی انتظامات کو سخت کر دیا ہے۔ اہم تنصیات کے لیے ’سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں۔‘

سکیورٹی سروس (ایف ایس بی) نے واگنر گروپ کے عسکریت پسندوں پر زور دیا کہ وہ پریگوزن کو ’حراست میں لینے کے لیے اقدامات کریں۔‘

کریملن نے کہا کہ پوتن کو واگنر گروپ اور وزارت دفاع کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ کے بارے میں باقاعدہ اطلاعات فراہم کی جا رہی ہیں۔

کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا کہ پراسیکیوٹر جنرل ایگور کراسنوف نے پوتن کو ’مسلح بغاوت کو منظم کرنے کی کوشش کے سلسلے میں فوجداری مقدمہ شروع کرنے‘ سے آگاہ کیا تھا۔

واگنر سپیشل فورسز کے ارکان۔ [فائل فوٹو]
واگنر سپیشل فورسز کے ارکان۔ [فائل فوٹو]

امریکی پابندی کا شکار روسی واگنر گروپ کیا کام کرتا ہے؟

یہ غیر معمولی پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب پریگوزن نے ماسکو پر ان کی فورسز کو ہلاکت خیز میزائل حملوں سے نشانہ بنانے کا الزام لگایا۔

پریگوزن نے اپنے ترجمان کی طرف سے جاری کیے گئے غصے سے بھرے آڈیو پیغامات میں کہا کہ ’انہوں نے (روس کی فوج) نے ہمارے عقبی کیمپوں پر میزائل حملے کیے۔ ہمارے جنگجوؤں کی ایک بڑی تعداد، ہمارے ساتھی مارے گئے۔‘

واگنر کے سربراہ باخموت میں اپنے فوجیوں کے ہمراہ۔
واگنر کے سربراہ باخموت میں اپنے فوجیوں کے ہمراہ۔

پی ایم سی واگنر کے کمانڈروں کی کونسل نے فیصلہ کیا ہے کہ ’ملک کی فوجی قیادت جو برائی کر رہی ہے اسے لازمی روکا جائے گا۔‘

انہوں نے روسیوں کو ان کی فورسز کے خلاف مزاحمت کرنے کے حوالے سے خبردار کیا اور کہا ہے کہ وہ ان کے ساتھ شامل ہو جائیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’ہم 25000 ہیں لوگ ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں اس گندگی کو صاف کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ فوجی بغاوت نہیں بلکہ انصاف کے لیے مارچ ہے۔‘

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یوکرین کے قریب روستوف کے علاقے میں روسی حکام نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ ہفتے کی صبح گھر پر رہیں کیوں کہ اجرت پر لڑنے والے گروپ کے سربراہ واگنر نے کہا کہ ان کی فوج جنوبی سرحدی علاقے میں داخل ہو گئی ہے۔

روسی فوج کے اہلکار
روسی فوج کے اہلکار

روستوف کے گورنر واسیلی گولوبیف نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ’قانون نافذ کرنے والے ادارے علاقے کے لوگوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کر رہے ہیں۔‘

انہوں نے مقامی لوگوں کو گھر رہنے کی تاکید کرتے ہوئے کہا کہ ’میں سب سے پرسکون رہنے کے لیے کہہ رہا ہوں۔‘

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں