افغانستان وطالبان

افغان خواتین کو آرام دہ اور خوشحال زندگی فراہم کی گئی: ھبۃ اللہ اخونزادہ

خواتین کو جبری شادیوں سے بچانے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے گئے، ان کے شرعی حقوق کا تحفظ کیا گیا: طالبان سپریم لیڈر کا عید پیغام جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

طالبان کے سپریم لیڈر ھبۃ اللہ اخونزادہ نے اپنے ایک پیغام میں کہا ہے کہ ان کی حکومت نے افغانستان میں خواتین کی زندگیوں میں بہتری لانے کے ضروری اقدامات کیے ہیں۔ ان کا یہ بیان ان حالات میں سامنے آیا ہے جہاں خواتین پر عوامی زندگی اور کام کرنے پر پابندی ہے اور لڑکیوں کی تعلیم کو سختی سے روک دیا گیا ہے۔

ھبۃ اللہ اخونزادہ کی جانب سے یہ بیان عید الاضحی کی تعطیل سے قبل جاری کیا گیا۔ ھبۃ اللہ ایک اسلامی سکالر ہیں اور شاذ و نادر ہی عوام میں نظر آتے ہیں۔ وہ افغانستان کے جنوب میں طالبان کا گڑھ سمجھے جانے والے صوبہ قندھار میں مقیم ہیں اور بہت کم قندھار سے باہر جاتے ہیں۔ ان کے اطراف ایسے علماء کرام یا اسلامی سکالرز کی کثرت ہے جو خواتین کے لیے مخلوط تعلیم اور کام کرنے کی مخالفت کرتے ہیں۔

اپنے عید کے پیغام میں اخونزادہ نے کہا کہ امارت اسلامیہ کے دور حکومت میں خواتین کو جبری شادیوں سمیت بہت سے روایتی جبر سے بچانے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے گئے ہیں اور ان کے شرعی حقوق کا تحفظ کیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا اسلامی شریعت کے مطابق خواتین کو آرام دہ اور خوشحال زندگی فراہم کرنے کے لیے معاشرے کے نصف حصے کی حیثیت سے ان کی بہتری کے لیے ضروری اقدامات کیے گئے ہیں۔

واضح رہے حال ہی میں اخون زادہ گھریلو پالیسی کی ہدایت دینے کے لیے سامنے آئے تھے۔ اس پالیسی کے تحت انہوں نے چھٹی جماعت کے بعد لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی لگانے اور افغان خواتین کو عوامی زندگی اور کام کرنے سے روکنے کا اعلان کیا تھا۔ خاص طور پر غیر سرکاری تنظیموں اور اقوام متحدہ کے اداروں میں خواتین کے کام کرنے پر پابندی لگائی گئی۔

ھبۃ اللہ کا حالیہ عید پیغام پانچ زبانوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ان زبانوں میں عربی، دری، انگریزی، پشتو اور اردو شامل ہیں۔ ھبۃ اللہ اخونزادہ نے کہا کہ گزشتہ 20 سالوں کے دوران خواتین کو بے حجاب کرکے بے راہ روی کی طرف دھکیلنے کے منفی اثرات جلد ختم ہو جائیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اب ہمارے دور میں خواتین کی ایک آزاد اور باوقار انسان کے طور پر حیثیت بحال ہوئی ہے۔ تمام اداروں کو شادی، وراثت اور دیگر حقوق کے حصول میں خواتین کی مدد کرنے کا پابند کردیا گیا ہے۔

خیال رہے اپنے سابق دور اقتدار کے مقابلے میں اس مرتبہ زیادہ اعتدال پسند حکمرانی کے ابتدائی وعدوں کے باوجود طالبان نے افغانستان میں دوبارہ سخت اقدامات نافذ کیے ہیں۔

افغانستان میں طالبان نے خواتین کو عوامی مقامات جیسے پارکس اور جمز میں جانے سے روک دیا ہے اور میڈیا کی آزادیوں کو پابند کیا گیا ہے۔ طالبان کے ان اقدامات نے عالمی سطح پر ایک ہنگامہ برپا کر دیا ہے۔ طالبان کی سخت گیر پالیسیوں نے افغانستان کی تنہائی کو ایسے وقت میں بڑھا دیا ہے جب اس کی معیشت تباہ ہو چکی ہے اور وہاں انسانی بحران مزید خراب ہو رہا ہے۔

ھبۃ اللہ نے دوسرے ملکوں سے افغانستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت بند کرنے کے اپنے مطالبے کا بھی اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ طالبان حکومت دنیا کے ساتھ خاص طور پر اسلامی ملکوں کے ساتھ اچھے سیاسی اور اقتصادی تعلقات کی خواہاں ہے۔ اور اس سلسلے میں اس نے اپنی ذمہ داری پوری کر دی ہے۔

ھبۃ اللہ اخونزادہ کے پیغام میں فلسطینیوں کے ساتھ اسرائیل کے رویے کی بھی شدید مذمت کی گئی اور سوڈان کے عوام اور حکومت سے اختلافات کو ایک طرف رکھ کر اتحاد اور بھائی چارے کے لیے مل کر کام کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں