امریکی انٹیلی جنس کو واگنر سربراہ کی پوتین کے خلاف بغاوت کاعلم تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

امریکی جاسوسی ایجنسیوں نے جون کے وسط میں انٹیلی جنس معلومات حاصل کی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ واگنر گروپ کا سربراہ ایوگنی پریگوزن روسی دفاعی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف مسلح کارروائی کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ ایوگنی پریگوزن طویل عرصے سے یوکرین کی جنگ میں ناکامی کا الزام روسی حکام پر لگاتا آ رہا تھا۔ امریکی خفیہ اداروں نے فوری طور پر اس کی اطلاع وائٹ ہاؤس اور دیگر سرکاری ایجنسیوں کو دے دی تھی۔

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق کئی امریکی عہدے داروں نے ہفتے کے روز کہا کہ وہ واگنر کمانڈر کے بغاوت نما بیان پر حیران نہیں ہوئے۔عہدیداروں نے بتایا کہ پریگوزن کے منصوبوں کی نوعیت اور وقت پہلے ہی واضح ہوگیا تھا۔ پریگوزن نے جمعہ اور ہفتہ کو ماسکو کے خلاف اپنی مہم شروع کی تھی۔

معاملے کی حساسیت کے پیش نظر اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرنے والے ایک امریکی عہدیدار نے کہا کہ قیادت کو یہ بتانے کے لیے کافی اشارے تھے کہ کچھ ہوا ہے۔ لہذا مجھے لگتا ہے کہ وہ اس کے لیے تیار تھے۔

عہدیدار نے کہا کہ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران امریکی حلقوں میں اس بارے میں "بڑی تشویش" تھی کہ آگے کیا ہوگا اور کیا روسی صدر ولادیمیر پوتین اقتدار میں برقرار رہیں گے؟ یہ تشویش بھی تھی کہ روس کے ایٹمی ہتھیاروں کے لیے اس عدم استحکام کا کیا مطلب ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ بھی مختلف حوالوں سے بہت سے سے سوالات تھے

امریکی عہدے داروں نے کہا کہ عدم استحکام جو روسی "خانہ جنگی" کے نتیجے میں ہو سکتا ہے بنیادی خوف ہے۔، یہ نوٹ کرتے ہوئے کہ وائٹ ہاؤس کے علاوہ پینٹاگون، محکمہ خارجہ اور کانگریس کے سینئر حکام کو گزشتہ دو ہفتوں کے دوران انٹیلی جنس پر بریفنگ دی گئی ہے۔

حکام نے بتایا کہ پریگوزن کا بنیادی محرک روسی وزارت دفاع کا 10 جون کا حکم تھا کہ تمام رضاکار دستوں کو حکومت کے ساتھ معاہدوں پر دستخط کرنا چاہیے۔

اگرچہ اس حکم میں واگنر گروپ کا نام کے ساتھ ذکر نہیں کیا گیا تھا لیکن اس کا مطلب واضح تھا۔ یاد رہے پریگوزن کی کرائے کی فوجوں کی گرفتاری جو یوکرین میں روس کی فوجی مہم کے لیے ضروری ثابت ہوئی تھی اور اس کی کچھ قابل ذکر حکمت عملی سے فتح حاصل کرنے میں مدد ملی تھی۔

اس سال کے اوائل میں واشنگٹن پوسٹ کو حاصل خفیہ دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ واگنر افریقہ میں ایک حقیقی سلطنت بنا رہا ہے جس میں پریگوزن حکومتی نظاموں کو سکیورٹی فراہم کرتا ہے۔ بعض اوقات قیمتی مادی حقوق کے بدلے میں یہ خدمت فراہم کی جاتی ہے۔

بائیڈن انتظامیہ کے ایک سینئر اہلکار نے کہا، "واگنر گروپ اور روسی وزارت دفاع کے درمیان تناؤ کوئی راز نہیں ہے۔ ہم سب نے پریگوزن کو کئی مواقع پر روسی فوج پر عوامی طور پر تنقید، نصیحت اور دھمکیاں دیتے ہوئع دیکھا ہے۔

امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں کا خیال ہے کہ پوتین کو پہلے ہی یہ بھی بتا دیا گیا تھا کہ پریگوزن کچھ کرنے والے ہیں۔ یہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ پوتین نے پریگوزن کے فوجی کمان پر قبضے یا ماسکو کی طرف اس کے اقدام کو ناکام بنانے کے لیے کارروائی کیوں نہیں کی۔

واگنر سربراہ پریگوزن دارالحکومت سے 120 میل کے فاصلے پر آیا تھا اور پوتین کے اتحادی بیلاروسی صدر الیگزینڈر لوکاشینکو کی ثالثی میں ایک ڈیل کرنے کے بعد واپس چلا گیا تھا۔ اس ڈیل میں پریگوزن کے خلاف مجرمانہ الزامات کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں