مصنف، مصور،بچوں کا فکشن رائیٹر اور ایک جنگجو،واگنر گروپ کے سربراہ مجموعہ اضداد شخصیت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

روسی صدر ولادی میر پوتین کی وفاداری سے غداری تک کے ہنگامہ خیز سفرمیں نجی ملیشیا واگنر کے سربراہ ’ ایوگنی پریگوزن‘ اس وقت پوری دنیا کے میڈیا کا بڑا موضوع ہیں۔ انہوں نے روسی صدر کے خلاف علم بغاوت بلند کرکے ماسکو کے لیے ایک نیا تنازع کھڑا کردیا ہے۔

دوسری طرف واگنر کے سربراہ ’ایوگنی پریگوزن‘ کی زندگی کے مختلف ایسے مخفی پہلو بھی سامنے آ رہے ہیں جن سے دنیا واقف نہیں تھی۔ خوف کی علامت سمجھے جانے والے عسکریت پسند گروپ کے سربراہ ’پریگوزن‘ کی زندگی کے کچھ ایسے پہلو بھی ہیں جن پر یقین کرنا مشکل ہے۔ وہ ایک ہی وقت میں ایک جنگجو کمانڈر ہیں تو ساتھ ہی وہ مصنف، کارٹونسٹ، مصور اور بچوں کے لیے کہانیاں لکھنے والے چلڈرن فکشن کے رائیٹر بھی ہیں۔

ویگنر کمانڈر کا پاسپورٹ
ویگنر کمانڈر کا پاسپورٹ

واگنر کی افواج کا کمانڈر پوتین کی پیدائش کے 9 سال بعد 1961 میں لینن گراڈ جو اب سینٹ پیٹرزبرگ کہلاتا ہے میں ہوئی۔ وہ ابھی چھوٹی عمر کےتھے کہ ان کے والد کا انتقال ہوگیا۔ یوں وہ روسی صدر سے عمر میں نو سال چھوٹے ہیں مگر دونوں کا آبائی شہر ایک ہی ہے۔

سنہ1981ء کی عدالتی دستاویزات نے اس بات کی تصدیق کی کہ پریگوزن کی عمر اس وقت 18 سال تھی جب اس نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ سینٹ پیٹرزبرگ کی سڑک پر ایک خاتون کو لوٹ لیا۔ اس پر عدالت سے اسے سزا ہوئی مگر رہائی کے بعد اس نے دوبارہ ڈکیتی کی واردات کی جس پر اسے 13 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

جیل سے 1990 میں رہائی کے بعد وہ سینٹ پیٹرزبرگ واپس آگیا۔ اس وقت روس سوویت یونین کی شکل میں تھا اور شہربڑے پیمانے پر تبدیلی کے دہانے پر تھا۔

اس شخص نے اپنے خاندان کے معمولی اپارٹمنٹ کے کچن میں ساسیج بیچنا شروع کر دیا لیکن اس کے عزائم بہت زیادہ تھے اور وہ جانتا تھا کہ انہیں کیسے حاصل کرنا ہے۔

کچھ ہی عرصہ بعد پریگوزن نے سپر مارکیٹوں کی ایک چین میں حصہ لیا۔ سنہ 1995ء میں اس نے اپنے کاروباری شراکت داروں کے ساتھ ایک ریستوراں کھولنے کا فیصلہ کیا۔

کمانڈر واگنر کہانی سے
کمانڈر واگنر کہانی سے

پہلے تو اس نے گاہکوں کو لبھانے کے لیے خواتین ڈانسرز اور اسٹرائپرز کا استعمال کیا لیکن جب یہ بات سامنے آئی کہ کھانا بہترین ہے تو اسٹرائپرز کو نکال دیا گیا۔

پاپ سٹارز اور تاجر جوق در جوق ریستوران میں آنے لگے۔ اس کے ریستوران میں آنے والوں میں سینٹ پیٹرزبرگ کے میئر اناتولی سوبچک اور صدر ولادی میر پوتین بھی کبھی آیا کرتے تھے۔

جب پوتین روس کے صدر بن گئے تو ’ایوگنی پریگوزن‘ ان کے قریب ہوگئے اور ان کے دربار کے خاص آدمی بن گئے۔

واگنر کا خوابیدہ لیڈر بچوں کی کہانیوں کا مصنف

لیکن واگنر کے خونی لیڈر کا دلچسپ پہلو بچوں کی کہانیاں لکھنے اور ڈرائنگ بنانے کی صلاحیت ہے۔

واگنر کی افواج کے کمانڈر نے اپنے بیٹے اور بیٹی کے تعاون سے بچوں کے لیے ایک مثالی کہانی لکھی۔ ایک جنگی اور فوجی دماغ رکھنے والے شخص کے لیے بچوں کے بارے میں کہانیاں لکھنا عجیب لگتا ہے۔

اس نے کہانی کا عنوان "اندراگوزک" رکھا ہے۔ اس کی صرف 2000 کاپیاں چھپیں۔ کتاب کے مقدمے میں لکھا گیا ہے کہ پریگوزن اور اس کے بیٹے اور بیٹی کے درمیان مشترکہ طور پر یہ کتاب لکھی گئی۔

واگنر کمانڈر
واگنر کمانڈر

یہ کہانی ایک ایسے شخص کے بارے میں لکھی گئی ہے جو یوکرین میں اپنے خونی ہتھکنڈوں کے لیے مشہور تھا اور سینیر روسی جرنیلوں کے ساتھ اس کے تلخ جھگڑے تھے۔

کتاب کے تعارف کے مطابق پولینا اور پاول ویگنر کمانڈر کے بیٹے اور بیٹی نے مرکزی کرداروں کے نام تجویز کیے اور اپنے والد کو "انڈراگوزیک نامی ایک چھوٹے لڑکے اور اس کی بہن اندراگوسا" کے بارے میں ایک کہانی تخلیقد کرنے پر آمادہ کیا۔

جب اندراگوزِک کو 2004 میں ایک غیر واضح پبلشر کے ذریعے شائع کیا گیا تھا، پریگوزِن - جو 1980 کی دہائی میں چوری کے الزام میں نو سال قید کاٹ چکے تھے - سینٹ پیٹرزبرگ میں ایک کامیاب ریستوراں چلا رہے تھے۔

کہانی کے فرنٹ کور کے اندر ایک مسکراتے ہوئے پریگوزین کی اپنے بچوں اور ان کی ماں لیوبوف پریگوزینا کے ساتھ تصویرکا عکس چھاپہ گیا ہے۔

کہانی کے واقعات میں، "اندراگوزک" کی مہم جوئی کے دوران جب وہ پلئیڈس تک اپنا راستہ تلاش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس دوران وہ کرداروں کے ایک گروپ سے ملتا ہے جس میں ایک "چھوٹا شخص" بھی شامل ہے، یعنی گاگارک نامی ایک اور بونا، جسے "ایک عمر رسیدہ شخص کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ایک پرندہ اور موٹے کپڑےسے بنا ایک کوٹ ہوتا ہے"۔

اپنی واحد کہانی میں ویگنر کی افواج کے کمانڈر سے منسوب ڈرائنگ

اندراگوزک کا اختتام "بگ سٹی" میں ہوتا ہے جہاں اس کی دوستی ایک انسانی لڑکے سے ہوتی ہے، جو اسے ایک غبارہ تلاش کرنے اور پلئیڈیز میں واپس آنے میں مدد کرتا ہے۔

90 صفحات کی پوری کہانی میں پریگوزن سے منسوب تفصیلی اور دلکش عکاسی بکھری ہوئی ہے - حالانکہ ویگنر لیڈر کی تکنیکی مہارت کا کوئی عوامی ثبوت نہیں ہے۔

بعد میں کہانی میں پلئیڈیز کا جادو اور بونوں کو عام انسانوں کے سائز تک بڑھانے کی اس کی صلاحیت کا پتہ چلا ہے۔

اندراگوزیک اور اس کے دوست انڈروگوزیا کی اپنی آبائی سرزمین کا سفر کرتے ہیں، جہاں وہ اس کے بادشاہ سے ملتے ہیں۔ بادشاہ کی مدد کرنے کی کوشش میں Indragozik اور اس کے دوست بادشاہ کو بڑا بنانے کے لیے Pleiades کا استعمال کرتے ہیں، لیکن وہ غلط اندازہ لگاتے ہیں اور وہ آخر کار دیو میں بدل جاتا ہے۔

کتاب کے آخر میں ایک مختصر نظم اندراگوزک کی کئی مہم جوئیوں کی کہانی کو "مزاحیہ انداز اور عجیب انداز میں بیان کرتی ہے۔

امکان ہے کہ کہانی کو فروخت کے لیے نہیں رکھا گیا تھا بلکہ اسے جاننے والوں اور دوستوں میں تحفے کے طور پر تقسیم کیا گیا تھا۔

جب بچوں کے مصنف پریگوزن اور جنگی سردار کے درمیان فرق کے بارے میں پوچھا گیا تو ماسکو کی ماہر نفسیات کرینہ میلیٹونین نے ماسکو ٹائمز کو بتایا کہ ایک شخص "کچھ لوگ پریگوزین کی طرح مجموعہ خواص ہوتے ہیں"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں