روس اور یوکرین

واگنر کی بغاوت سے یوکرین میں فوجی آپریشن متاثر نہیں ہوگا: روس

ڈونیٹسک اور زاپوروزئے کے محوروں پر یوکرینی افواج کے حملوں کو پسپا کر دیا ہے: روسی وزارت دفاع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

کریملن نے اعلان کیا ہے کہ "واگنر" گروپ کی طرف سے کی گئی بغاوت سے یوکرین میں روسی فوجی کارروائی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ روسی یوکرینی محاذوں پر آج اتوار کو بھی دونوں فریقوں کے درمیان شدید لڑائی ہو رہی ہے۔

ہفتے کے روز صدارتی ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا کہ واگنر کی بغاوت کیف کے خلاف روسی مہم کو متاثر نہیں کرے گی۔ خصوصی فوجی آپریشن جاری ہے۔ ہماری فوج نے یوکرین کے جوابی حملے کو پسپا کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔

فیلڈ سے موصول رپورٹ کے مطابق روسی "ووسٹوک" فورسز کے اجتماع کے پریس سنٹر کے سربراہ نے کہا ہے کہ روسی افواج نے جنوبی ڈونیٹسک اور زاپوروزئے کے محاذوں پر ٹینکوں اور بکتر بند گاڑیوں پر یوکرین کی فوج کے حملوں کو پسپا کر دیا ہے۔

سپوتنک کے ساتھ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ڈونیٹسک کے محور کے جنوب میں ووسٹوک فورسز کے گروپ نے ماخارووکا کے قریب دشمن کے حملوں کو پسپا کر دیا ہے، ایک ٹینک، جنگی ہتھیار اور افرادی قوت کو تباہ کر دیا گیا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ دشمن بھاری نقصان اٹھانے کے بعد پیچھے ہٹ گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زاپوروزئے کے محور پر اسمبلی یونٹوں نے دشمن کے حملے کو پسپا کردیا۔

اس سے پہلے یوکرین کی فوج نے ہفتے کے روز کہا تھا کہ اس کی افواج نے مشرقی محاذ پر لڑائی کے اہم مقامات میں سے ایک باخموت کے قریب اور مزید جنوب میں ایک علاقے میں پیش رفت کی ہے۔

نائب وزیر دفاع ہانا ملیار نے "ٹیلی گرام" ایپلی کیشن کے ذریعے بتایا کہ یوکرین کی افواج نے باخموت کے آس پاس کے دیہاتوں کے ایک گروپ کے قریب حملہ کیا۔ اس شہر پر کئی مہینوں کی لڑائی کے بعد گزشتہ ماہ روسی "واگنر" گروپ کی فورسز نے قبضہ کر لیا تھا۔

اپنی طرف سے، یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا کہ روسی نجی ملٹری "واگنر" گروپ کے عناصر کی بغاوت نے روس میں مکمل افراتفری کو واضح کردیا ہے۔

زیلنسکی نے ایک ویڈیو تقریر میں کہا کہ آج دنیا دیکھ سکتی ہے کہ روس کی قیادت کا کسی چیز پر قابو نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بس مکمل افراتفری ہے۔

زیلنسکی نے مزید کہا کہ ان کا ملک خاموش نہیں رہے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یورپ کے مشرقی حصے کی سلامتی مکمل طور پر ہمارے دفاع پر منحصر ہے۔

زیلنسکی نے یوکرینی زبان سے روسی زبان میں منتقل ہوتے ہوئے پوتین کو مخاطب کیا اور کہا کہ آپ کی افواج جتنی دیر یوکرین کی سرزمین پر رہیں گی، آپ روس کو اتنی ہی زیادہ تباہی دیں گے۔

یوکرین کے صدر نے کہا کہ ہماری افواج روس کی افواج سے یورپ کی حفاظت کر رہی ہیں۔ زیلنسکی نے اپنی یوکرینی فوج کو ایف 16 لڑاکا طیاروں سمیت تمام ضروری ہتھیار فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں