مسلمانوں کے حق میں باراک اوباما کے بیان پر بھارتی وزیر کا طنز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ہندوستان کی وزیر خزانہ نے سابق امریکی صدر باراک اوباما پر منافقت کا الزام لگاتے ہوئے ان کے ان بیانات کا مذاق اڑایا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کو اقلیتی مسلمانوں کے حقوق کا تحفظ کرنا چاہیے۔

گزشتہ ہفتے مودی کے دورہ امریکا کے دوران، اوباما نے سی این این سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ "امریکی صدر جو بائیڈن کے ساتھ مودی کی ملاقات میں اکثریتی ہندو بھارت میں مسلم اقلیت کے تحفظ" کا معاملہ ضرور اٹھانا چاہیے۔

اوباما نے کہا کہ اگر مودی حکومت اقلیتوں کا تحفظ نہیں کرے گی تو’’اس بات کا قوی امکان ہے کہ ہندوستان کسی بھی وقت ٹوٹ جائے‘‘۔

ہندوستانی وزیر خزانہ سیتارمن نے اتوار کو ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ وہ حیران ہیں کہ اوباما نے یہ بیانات ایسے وقت پر دیے جب مودی امریکا کا دورہ کر رہے تھے ، جس کا مقصد تعلقات کو گہرا کرنا تھا۔

انہوں نے کہا کہ "وہ ہندوستانی مسلمانوں پر تبصرہ کر رہے تھے… جبکہ اپنے دور صدارت میں شام سے لے کر یمن تک مسلم اکثریتی ممالک پر بمباری کر تے رہے ،"

’’ایسے لوگوں کے الزامات کو کوئی کیوں سنے گا؟‘‘

امریکی محکمہ خارجہ نے مودی کی ہندو قوم پرست پارٹی کے تحت بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ دیگر مذہبی اقلیتوں کے ساتھ سلوک پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ بھارتی حکومت کا اصرار ہے کہ وہ تمام شہریوں کے ساتھ یکساں سلوک کرتی ہے۔

امریکی صدر بائیڈن نے کہا کہ انہوں نے وائٹ ہاؤس میں مودی کے ساتھ بات چیت کے دوران انسانی حقوق اور دیگر جمہوری اقدار پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

مودی نے گذشتہ ہفتے بائیڈن کے ساتھ ایک پریس کانفرنس میں بھی اپنے دور حکومت میں اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک کی تردید کی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں