روس میں بغاوت

واگنر کی بغاوت فِرَو ہونے کے بعد روسی حکام کااتحاد اور صدرپوتین کی حمایت پر زور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

روس کے سینیر عہدے داروں نے پیر کے روز صدر ولادی میرپوتین کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کیا ہے لیکن انھوں نے کرائے پردستیاب مسلح ملیشیا واگنر کی بغاوت پرقابو پانے کے بارے میں سوالات کا واضح جواب نہیں دیا۔یہ صدرپوتین کے 23 سالہ اقتدار پر ان کی گرفت کے لیے اب تک کاسب سے بڑا خطرہ ہے۔

طاقتور واگنر گروپ کے جنگجوؤں نے ہفتے کے روز روسی فوج کے ایک ہیڈکوارٹر پر قبضہ کرلیا تھا اور ماسکو کی جانب پیش قدمی شروع کی تھی۔البتہ ان کی بغاوت پر پہلے روز ہی قابو پالیا گیا لیکن روسی حکام نے ابھی تک اس معاہدے کے بارے میں کوئی تفصیل فراہم نہیں کی جس نے اچانک بغاوت کو ختم کر دیا۔

صدرپوتین کے مقرر کردہ وزیراعظم اور کابینہ کے سربراہ میخائل میشوستن نے تسلیم کیا ہے کہ روس کو "اپنے استحکام کے لیے ایک چیلنج" کا سامنا ہے اور انھوں نے صدر سے عوامی وفاداری کا مطالبہ کیا ہے۔

انھوں نے ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے ایک سرکاری اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا:’’ہمیں ایک ٹیم کی حیثیت سے مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے، اور صدر کے گرد جمع ہو کر تمام قوتوں کے اتحاد کو برقرار رکھنے کی ضرورت ہے‘‘۔

خود صدرپوتین نے بغاوت فِرَو ہونے کے بعد کوئی بیان جاری نہیں کیا۔انھوں نے ہفتے کے روز کہا تھا کہ بغاوت نے روس کے وجود کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔انھوں نےاس کے ذمے داروں کو سزا دینے کا عہد کیا تھا۔ دریں اثناء کریملن نے ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں انھوں نے ایک صنعتی فورم کے شرکاء کو مبارک باد دی ہے جس میں اس بات کا کوئی اشارہ نہیں ہے کہ اسے کب فلمایا گیا تھا۔

روسی حکام نے ایک ویڈیو جاری کی جس میں وزیر دفاع سرگئی شوئیگو کو دکھایا گیا ہے۔ باغیوں نے انھیں برطرف کرنے کا مطالبہ کیا تھا ، جس کی وجہ سے قیاس آرائیاں کی جارہی تھیں کہ ان کی برطرفی بغاوت کو ختم کرنے والے انتظامات کا حصہ ہوسکتی ہے۔روس کے چیف آف جنرل اسٹاف ویلری گراسیموف کو بھی ان واقعات کے بعد سے عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا ہے۔کریملن کا کہنا ہے کہ اہلکاروں کی تبدیلی کا سوال صدر کا واحد استحقاق ہے اور یہ شاید ہی کسی معاہدے کا حصہ ہو سکتا ہے۔

واگنر کے سربراہ اور بغاوت کے سرغنہ ایوگینی پریگوزن کو آخری بار دوروزپہلے جنوبی شہر روستوف آن ڈان سے نکلتے ہوئے ایک ایس یو وی کے پیچھے مسکراتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔

روس کی قومی انسداد دہشت گردی کمیٹی نے کہا ہے کہ ملک میں صورت حال مستحکم ہے۔ ماسکو کے میئر سرگئی سوبیانن نے بھی انسداد دہشت گردی کے حفاظتی نظام کو منسوخ کرنے کا اعلان کیا ہے۔انھوں نے ہفتے کو دارالحکومت سے چند سو کلومیٹر کے فاصلے پر باغی جنگجوؤں کی پیش قدمی کے دوران میں شہریوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت کی تھی۔

پریگوزن اور ان کے جنگجوؤں کو ان کے انخلا کے بدلے میں استغاثہ سے استثنا کی پیش کش کی گئی تھی۔ تاہم سرکاری خبر رساں اداروں نے پیر کے روز اطلاع دی ہے کہ پریگوزن کے خلاف فوجداری مقدمہ بدستور کھلا ہے اور اس کی پیروی کی جارہی ہے۔

ردعمل

روس میں ہونے والے ان غیر معمولی واقعات نے اس کی دوست اور دشمن حکومتوں کو اس بات کا جواب تلاش کرنے پر مجبور کر دیا کہ پردے کے پیچھے کیا ہوا اور اس کے بعد کیا ہو سکتا ہے۔

روس کے اتحادی چین نے روس کے قومی استحکام کو برقرار رکھنے میں ماسکو کی حمایت کا اظہار کیا ہے جبکہ یوکرین اور اس کے کچھ مغربی اتحادیوں کا کہنا ہے کہ اس شورش سے روس میں دراڑیں پڑ گئی ہیں۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزف بوریل لکسمبرگ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی نظام کمزور دکھائی دے رہا ہے اور فوجی طاقت میں دراڑیں پڑ رہی ہیں۔

جرمن وزیر خارجہ انالینا بیئربوک کا کہنا تھا کہ یوکرین پر حملہ، جسے صدرپوتین دھمکیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے 'خصوصی فوجی آپریشن' قرار دیتے ہیں، روس کو تباہ کر رہا ہے اور مغرب کیف کی حمایت جاری رکھے گا۔

معاہدہ شمالی اوقیانوس کی تنظیم نیٹو کا کہنا ہے کہ یہ واقعات یوکرین کے خلاف جنگ چھیڑنے میں کریملن کی تزویراتی غلطی کی شدت کو ظاہر کرتے ہیں اور مغرب کا دفاعی اتحاد یوکرین کی حمایت ختم نہیں کرے گا۔

امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلینکن نے جی سیون اور یورپی یونین کے ہم منصبوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ روس میں اس بحران کو ختم ہونے میں مہینوں لگ سکتے ہیں۔

یوکرین کے صدر ولودی میرزیلنسکی نے امریکی صدر جو بائیڈن اور کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کے ساتھ الگ الگ فون کالز میں ان واقعات پر تبادلہ خیال کیا۔انھوں نے یوکرین کی حمایت کا اظہار کیا۔

زیلنسکی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ دنیا کو روس پر اس وقت تک دباؤ ڈالنا چاہیے جب تک بین الاقوامی نظم و ضبط بحال نہیں ہو جاتا۔

فرانسیسی صدر عمانوایل ماکرون نے لا پروونس اخبار کو بتایا کہ بغاوت روسی کیمپ کے اندر تقسیم اور اس کی فوج اور واگنر دونوں کی کمزوری کو ظاہر کرتی ہے۔

صدرپوتین کے سابق اتحادی اور سابق قیدی، جن کی فورسز نے یوکرین میں 16 ماہ سے جاری جنگ میں سب سے خونریز لڑائی لڑی ہے، 62 سالہ پریگوزن نے رواں ماہ اپنے فوجیوں کو وزارت دفاع کی کمان میں رکھنے کے احکامات کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا تھا۔انھوں نے جمعہ کے روز بغاوت کا آغاز اس وقت کیا جب انھوں نے الزام عاید کیا کہ روسی فوج نے ایک فضائی حملے میں ان کے کچھ افراد کو ہلاک کیا تھا۔تاہم روسی وزارت دفاع نے اس الزام کی تردید کی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں