روس اور یوکرین

یوکرین نے روسی فوج سے جنوب مشرقی گاؤں ریونوپل کو آزاد کرا لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

یوکرین کی افواج نے جنوبی محاذ پر روس کے زیر قبضہ ایک اور بستی پر دوبارہ قبضہ کر لیا ہے۔

یوکرین کی نائب وزیر دفاع حنا مالیار نے ٹیلی گرام پر دونیتسک خطے میں ایک دیہی علاقے کا حوالہ دیتے ہوئے یہ بیان پوسٹ کیا ہے: ’’ہماری دفاعی افواج نے ریونوپل کو دوبارہ اپنے کنٹرول میں واپس لے لیا ہے‘‘۔

فیس بک پر پوسٹ کی گئی ایک اور ویڈیو میں یوکرین کے 31 ویں میکانائزڈ بریگیڈ کے فوجیوں کو ایک تباہ شدہ کاٹیج کے سامنے اپنے قومی پرچم کے ساتھ پوز دیتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

ان فوجیوں میں سے ایک نے بتایا کہ ریونوپل کو اتوار کے روز اس وقت آزاد کرایا گیا تھا جب روسی افواج وہاں سے راہ "فرار" اختیار کر گئی تھیں۔انھوں نے مزید کہا کہ ہم آگے بڑھ رہے ہیں۔

اس ماہ یوکرین نے ملک کے جنوب اور مشرق میں اپنے قریباً پانچویں علاقے پر قابض روسی فوجیوں کے خلاف جوابی کارروائی کا آغاز کیا تھا۔تاہم یوکرین کے صدر ولودی میر زیلینسکی نے اعتراف کیا ہے کہ ان کی فوج نے مغرب کے مہیا کردہ ہتھیاروں اور ٹینکوں کے باوجود پیش قدمی اتنی تیزی سے نہیں کی، جتنی کہ توقع کی جا رہی تھی۔

یوکرینی فوج نے دونیتسک میں ویلیکا نوفسلکا کے جنوب میں واقع موکری یالی ندی کی وادی میں بھی پیش قدمی کی ہے اور اس دوران میں قبضے میں لیے گئے علاقے کو ریونوپل سے ملادیا جائے گا۔

روسی افواج نے تصدیق کی تھی کہ یوکرین کے موسم گرما کے جوابی حملے کے باضابطہ آغاز کے دو ہفتے بعد 16 جون کو ریونوپل میں لڑائی جاری ہے۔اس سے قبل، گذشتہ ہفتے کی لڑائی کا خلاصہ بیان کرتے ہوئے، ملیار نے کہا کہ مزید 17 مربع کلومیٹر (6.5 مربع میل) علاقے کو آزاد کرا لیا گیا ہے، جس کے بعد مجموعی طور پر 130 مربع کلومیٹر علاقہ بازیاب کرالیا گیا ہے۔

روسی فوج سے بازیاب کرائے گئے علاقے کا سب سے بڑا حصہ جنگ سے تباہ شدہ کوئلے کی کان کنی والے قصبے ووگلدار کے جنوب میں ہے، جس میں ریونوپل بھی شامل ہے۔

تاہم یوکرینی فوج نے زاپوریزژیا کے علاقے میں توکماک کی جانب پیش قدمی کرتے ہوئے آپریشن شروع کر دیا ہے اور وہ بَخموت شہر کے اطراف کو محفوظ بنانے کے لیے دونیتسک کے شمال میں روسی فوج کے خلاف لڑائی جاری رکھے ہوئے ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں