روس میں بغاوت

’یہ بغاوت نہیں، مظاہرہ تھا‘:پریگوزن کا غدر کے بعد پہلا بیان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

روس کے کرائے کے مسلح گروپ واگنر کے سربراہ ایوگینی پریگوزن نے اختتام ہفتہ پر قلیل مدتی بغاوت کے خاتمے کے بعد پیر کے روز اپنا پہلا بیان جاری کیا ہے اور اس میں اس بات پر زور دیا ہے کہ ان کے لوگوں کا ماسکو کی جانب مسلح مارچ بغاوت کی کوشش نہیں بلکہ ایک احتجاجی’’مظاہرہ‘‘ تھا اور اس نے روس میں ’’بہت سنگین سکیورٹی مسائل‘‘ کو بے نقاب کیا ہے۔

انھوں نے ٹیلی گرام پر ایک بیان میں کہا کہ ’’ان کی فورسز کا قافلہ ماسکو سے 200 کلومیٹر دور رکا تھا اوراس سے راستے میں موجود ہوائی اڈوں سمیت "تمام فوجی بنیادی ڈھانچے" کو بند کر دیا۔وہاں سے پیچھے مڑنے اور آگے نہ بڑھنے کا فیصلہ اس لیے کیا گیا کیونکہ وہ خون ریزی سے بچنے کی کوشش کر رہے تھے‘‘۔

پریگوزن نے کہا کہ ’’اس طرح اٹھ کھڑے ہونے کا مقصد مشکلات میں گھرے اپنے گروپ کو بچانا تھا نہ کہ حکومت کو بے دخل کرنا۔ہم نے ناانصافی کی وجہ سے اپنا مارچ شروع کیا۔مارچ کا مقصد واگنر گروپ کی تباہی کو روکنا تھا‘‘۔انھوں نے زور دے کر کہا:’’ہم اپنے احتجاج کا مظاہرہ کرنے گئے تھے، نہ کہ ملک کی حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے‘‘۔

بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو کی ثالثی میں طے پانے والے معاہدے کے حوالے سے پریگوزن نے کہا کہ ’’لوکاشینکو کے پاس تجاویز تھیں کہ واگنر گروپ کس طرح اپنی سرگرمیاں جاری رکھ سکتا ہے۔لوکاشینکو نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور قانونی دائرہ اختیار کے اندرنجی فوجی کمپنی واگنر کے کام کو جاری رکھنے کے لیے حل تلاش کرنے کی پیش کش کی‘‘۔

اس معاہدے کے تحت پریگوزن نے بیلاروس میں جلاوطنی قبول کی ہے لیکن انھوں نے اس بیان میں اپنے مقام کا انکشاف کیا اور نہ ہی اپنے جلاوطنی کے معاہدے کے بارے میں مزید تفصیل فراہم کی۔ یہ بھی واضح نہیں تھا کہ واگنر کے جنگجوؤں کے ساتھ کیا ہوگا۔

ان کی قیادت میں کرائے کے مسلح گروپ نے اختتام ہفتہ پر ایک مختصر بغاوت کا آغاز کیا تھا لیکن لوکاشینکو کی ثالثی میں ایک معاہدے پر رضامندی ظاہر کرنے کے بعد پریگوزن نے ماسکو کی جانب اپنی فورسز کی چڑھائی کواچانک ختم کرنے کا اعلان کردیا تھا۔اس معاہدے کے تحت ان کے خلاف کوئی قانونی کارروائی بھی نہیں کی جائے گی اوریوکرین میں لڑنے والے ان کے جنگجوؤں کو بھی قانونی استنثا دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔

اس بیان میں انھوں نے حسب سابق روایتی انداز میں روسی وزارتِ دفاع کی توہین کی اور اپنے جوانوں کی جنگی صلاحیت اور تجربے کی تعریف کی۔ اس مختصر بغاوت نے یوکرین پر روسی حملے کے عمل پر وزیر دفاع سرگئی شوئیگو اور چیف آف جنرل اسٹاف ویلری گیراسیموف کے ساتھ پریگوزن کے جاری جھگڑے کے عروج کی نشان دہی بھی کی تھی۔انھوں نے حال ہی میں وزارت دفاع کے اس مینڈیٹ کو بھی تسلیم کرنے سے انکار کردیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ تمام رضاکار فورسز یوکرین میں کام کرنے کے لیے وزارت کے ساتھ معاہدوں پر دست خط کریں۔

اس مجوزہ کنٹریکٹ سسٹم کو پریگوژن نے سختی سے مسترد کر دیا تھا۔اس کے تحت ان کے گروپ کو وزارت دفاع کے ڈھانچے میں شامل کیا جاسکتا تھا۔اس سے پریگوزن کوخدشہ تھا کہ ان کا اپنا سیاسی اور فوجی اثر و رسوخ ختم ہوسکتا تھا اور ان کی اپنے مسلح گروپ پرگرفت ڈھیلی پڑسکتی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں