اگست 2021 سے اب تک 1,095 افغان شہری دھماکوں اور تشدد میں ہلاک ہوئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

منگل کو جاری کردہ افغانستان میں اقوام متحدہ کے مشن کی رپورٹ کے مطابق، 2021 میں غیر ملکی افواج کے جانے اور طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے بم دھماکوں اور دیگر تشدد میں ایک ہزار سے زیادہ افغان شہری مارے گئے ہیں۔

افغانستان میں اقوام متحدہ کے مشن (یو این اے ایم اے) کے مطابق 15 اگست 2021 سے اس سال مئی کے درمیان 1,095 شہری ہلاک اور 2,679 زخمی ہوئے، جو کئی دہائیوں کی جنگ کے خاتمے کے بعد بھی موجود سیکیورٹی چیلنجوں کو ظاہر کرتے ہیں۔

زیادہ تر اموات ( 700 سے زیادہ ) دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلات کی وجہ سے ہوئیں جن میں عوامی مقامات جیسے مساجد، تعلیمی مراکز اور بازاروں میں خودکش بم دھماکے شامل ہیں۔

اگرچہ اگست 2021 میں نیٹو فوج کےانخلاء اور طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے مسلح لڑائی میں ڈرامائی طور پر کمی آئی ہے، لیکن سکیورٹی کے چیلنجز بدستور موجود ہیں، خاص طور پر داعش کی طرف سے۔ یو این اے ایم اے کے مطابق یہ عسکریت پسند گروپ زیادہ تر حملوں کا ذمہ دار تھا۔ رپورٹ میں یہ بھی نوٹ کیا گیا کہ پرتشدد واقعات میں کمی کے باوجود شدید نوعیت کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ "یو این اے ایم اے کے اعداد و شمار نہ صرف اس طرح کے حملوں کے نتیجے میں شہریوں کو ہونے والے نقصانات کو اجاگر کرتے ہیں، بلکہ 15 اگست 2021 کے بعد سے خودکش حملوں کی ہلاکت خیزی میں اضافہ، حملوں کی تعداد کم مگر بڑی تعداد میں شہری ہلاکتیں ہوئیں،"

طالبان نے کہا ہے کہ ان کی توجہ ملک کو محفوظ بنانے پر ہے اور انہوں نے حالیہ مہینوں میں داعش کے ٹھکانوں پر کئی چھاپے مارے ہیں۔

یو این اے ایم اے کے مطابق، 1,700 سے زیادہ ہلاکتیں، اور متعدد زخمیوں کی ذمہ داری داعش کی جانب سے قبول کی گئی تھی۔

طالبان کے زیرانتظام امور خارجہ کی وزارت نے اقوام متحدہ کے جواب میں کہا ہے کہ افغانستان کو کئی دہائیوں تک جنگ کے دوران سکیورٹی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا، اور ان کی حکومت آنے کے بعد حالات میں بہتری آئی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ "امارت اسلامیہ کی سکیورٹی فورسز شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے اور دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے بروقت کارروائی کرنے کی پابند ہیں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں