منیٰ میں کیسے بوڑھے افراد بھی مناسک حج ادا کرنے کے قابل ہوگئے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب میں حج ادا کرنے کے لیے دنیا کے تمام خطوں سے آئے ہوئے معمر افراد کے چہرے بھورے بالوں سے بھرے ہیں۔ گالوں پر جھریاں پڑی ہوئی ہیں، کچھ وہیل چیئر پر ہیں تو کوئی اپنی چھڑی پر ٹیک لگائے ہوئے ہے۔ یہ افراد طویل مسافتیں طے کرکے اور سفر کی تکلیف اور مشقت برداشت کرکے حج کے مناسک ادا کرنے کے لیے پہنچے ہیں۔ سعودی عرب میں 8 ذوالحج کو مناسک حج کا آغاز ہوگیا اور لاکھوں لوگوں نے منیٰ میں وقوف کیا۔ منیٰ میں سڑکوں پر ایسے مناظر بھی دیکھنے میں آئے جنہیں بھلایا نہیں جا سکتا۔

منیٰ میں ایسے افراد بھی تھے جو اپنے انتہائی بڑھاپے میں تھے ۔ یہ افراد خود کو منیٰ میں دیکھ کر خود بھی حیران تھے کہ اس عمر میں کس طرح وہ حج ادا کرنے کے لیے سعودی عرب پہنچ گئے ہیں۔ یہ وہ افراد تھے جو بیت اللہ شریف کو دیکھنے اور حج ادا کرنے کی اپنے خوابوں کے حقیقت میں بدلنے سے بھی مایوس ہوگئے تھے۔

بہت زیادہ عمر والے ان افراد کو خاص طور پر اپنی صحت کے حوالے سے تشویش تھی کہ انہیں نماز ادا کرنے میں بھی بہت مشقت اٹھانا پڑتی ہے تو حج تو ان کے لیے ناممکن ہوگیا ہے۔

اسی حوالے سے 70 سالہ بھارتی حاجی نور عبدالحمید نے بتایا کہ اس نے زندگی بھر حج کرنے اور مقدس مقامات کی زیارت کا خواب دیکھا تھا۔

پاکستانی حاجی آمنہ نے اظہار خیال کیا اور کہا کہ الحمد للہ میں کئی سالوں کے بعد منیٰ پہنچی ہوں۔ ندگی بھر کا خواب آج پورا ہوا۔ میں اسّی سال کی عمر کے قریب پہنچ چکی ہوں۔ میں اب اپنے گھٹنوں میں کھردری کی وجہ سے چلنے کے قابل نہیں ہوں۔ اس لیے میں وہیل چیئر استعمال کرتی ہوں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں