ایران جوہری معاہدہ

ایران کے ساتھ کوئی جوہری معاہدہ زیرغورنہیں: امریکی وزیرخارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

امریکا کے وزیر خارجہ انٹونی بلینکن نے ایران کے ساتھ خاموش سفارت کاری کے تناظر میں کہا ہے کہ اس کے ساتھ کوئی نیا جوہری معاہدہ زیرغور نہیں ہے۔

انھوں نے بدھ کو نیویارک میں کونسل برائے خارجہ تعلقات میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ جوہری پروگرام کے حوالے سے کوئی معاہدہ طے نہیں ہوا ہے جبکہ ہم سفارتی راستے تلاش کرنے کے لیے تیار ہیں۔

بلینکن نے ایران سے مستقبل کے تعلقات کے بارے میں کہا:’’ہم ان کے اقدامات کو دیکھیں گے‘‘۔ انھوں نے ایران پر زور دیا کہ وہ امریکا اور مشرق اوسط میں ’’کشیدگی کو مزید بڑھانے والے اقدامات نہ کرنے‘‘کا انتخاب کرے۔

سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ حالیہ مہینوں میں عمان میں امریکا اور ایران کے درمیان خاموشی سے بالواسطہ مذاکرات دوبارہ شروع ہوئے ہیں۔ ان میں زیادہ تر توجہ ایران میں امریکی قیدیوں کی حیثیت اور رہائی پر مرکوز ہے۔

واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان یورپی یونین کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات ناکام ہوچکے ہیں۔2015ء میں طے شدہ جوہری معاہدے کی بحالی کے لیے بات چیت مختلف متنازع امور پر ختم ہو گئی تھی۔امریکا نے ایران سے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جوہری معاہدے سے دستبرداری کے ردعمل میں کیے گئے جوابی اقدامات سے واپسی کا مطالبہ کیا تھا۔

بلینکن کا کہنا تھا کہ بائیڈن انتظامیہ نے یورپی طاقتوں کے علاوہ اپنے حریفوں چین اور روس کے ساتھ مل کر جوہری معاہدے میں واپسی کے لیے نیک نیتی سے کوششیں کی ہیں اور ایک وقت میں ایسا ممکن دکھائی دے رہا تھا۔

انھوں نے کہا:’’ایران یا تو وہ نہیں کر سکا یا نہیں کرے گا جو تعمیل میں واپس آنے کے لیے ضروری تھا‘‘۔

اسرائیل سے معمول کے تعلقات

خطے کے دیگر حصوں میں بلینکن نے اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کے لیے ایک مصالحت کارکا کردار ادا کیا ہے جبکہ ان دونوں ممالک کے حالیہ مہینوں میں امریکا کے ساتھ تعلقات کشیدہ رہے ہیں۔

انٹونی بلینکن نے جون کے اوائل میں سعودی عرب کا دورہ کیا تھا۔انھوں نے کہا’’سعودی عرب اور اسرائیل دونوں یقینی طور پر معمول کے تعلقات کے امکانات میں دلچسپی رکھتے ہیں۔یہ ناقابل یقین حد تک ایک چیلنج اور مشکل کام ہے، ایسا کچھ نہیں جو راتوں رات ہو سکتا ہے، لیکن یہ ایک حقیقی امکان بھی ہے اور اس پر ہم کام کر رہے ہیں‘‘۔

اسرائیل نے 2020 میں تین عرب ریاستوں متحدہ عرب امارات، بحرین اور مراکش کے ساتھ معاہدہ ابراہیم کے تحت معمول کے تعلقات استوار کیے تھے۔اسے سابق صدر امریکا ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو دونوں نے ایک اہم کامیابی قرار دیا تھا۔

نیتن یاہو کے نزدیک عرب دنیا میں سعودی عرب کا اپنے حجم،اثرو رسوخ اور اسلام کے مقدس ترین مقامات کے محافظ کی حیثیت سے اسرائیل کو تسلیم کرنا ایک حتمی بغاوت ہوگی جبکہ سعودی عرب نے فلسطینیوں کے حقوق پر پیش رفت کا مطالبہ کیا ہے۔

بلینکن نے منگل کے روز اسرائیلی وزیر خارجہ ایلی کوہن سے بات چیت کی تھی اور مغربی کنارے میں کشیدگی کم کرنے پرزوردیا اور حالیہ بدامنی پر تشویش کا اظہار کیا، جس میں فلسطینی نژاد امریکیوں کے خلاف تشدد بھی شامل ہے۔

امریکی وزیرخارجہ نے کہا کہ ہم نے اسرائیل میں اپنے دوستوں اور اتحادیوں سے کہا ہے کہ اگر ان کے گھر کے عقب میں آگ بھڑکتی ہے تو موجودہ معاہدوں میں مزید گہرائی لانا اور ممکنہ طور پر سعودی عرب کو شامل کرنے کے لیے ان میں توسیع کرنا ناممکن نہیں تو بہت مشکل ہوگا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں