ترکیہ نے سویڈن میں قرآن مجید نذرآتش کرنے کے گھناؤنے فعل کی مذمت کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ترکیہ کے وزیر خارجہ نے بدھ کے روز سویڈن میں قرآن مجید کے کئی صفحات جلائے جانے کی مذمت کی ہے اور اسے ’گھناؤنا‘ اور ’قابل نفرت‘ فعل قرار دیا ہے۔

اسٹاک ہوم کی مرکزی مسجد کے باہر ایک شخص نے سویڈش پولیس سے اجازت ملنے کے بعد احتجاج کیا ہے اور آزادیِ اظہار کے نام پر مسلمانوں کی مقدس کتاب قرآن مجید کی بے حرمتی کی ہے۔سویڈین میں مسلمانوں کی عید الاضحیٰ کا یہ پہلا دن تھا۔

ترک وزیر خارجہ حقان فیدان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ایک بیان میں کہا کہ ’’میں عید الاضحی ٰ کے پہلے روز قرآن پاک کے خلاف کی جانے والی گھناؤنی حرکت پر لعنت کرتا ہوں‘‘۔انھوں نے کہا کہ آزادیِ اظہارکے بہانے اسلام مخالف اقدامات کی اجازت ناقابلِ قبول ہے۔

انھوں نے مزید کہا:’’اس طرح کے ظالمانہ کاموں سے آنکھیں موندنے کامطلب ان میں شریک جرم ہونے کے مترادف ہے‘‘۔

37 سالہ سلوان مومیکا نے، جو کئی سال قبل عراق سے فرار ہو کر سویڈن چلا گیا تھا، پولیس سے قرآن کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کرنے کے لیے احتجاج اور مسلمانوں کی مقدس کتاب کو جلانے کی اجازت مانگی تھی۔احتجاج سے قبل مومیکا نے نیوز ایجنسی ٹی ٹی کو بتایا کہ وہ اظہارِرائے کی آزادی کی اہمیت کو بھی اجاگر کرنا چاہتا ہے۔

مومیکا نے قرآن مجید کے نسخے پر پتھراؤ کیا اوراس کے اوراق کو آگ لگا دی اور پھر اسے بند کر دیا، اور سویڈش پرچم لہراتے ہوئے مقدس اوراق کی پاؤں سے بے توقیری ہے۔

واضح رہے کہ دو ہفتے قبل سویڈن کی ایک اپیل عدالت نے اسٹاک ہوم میں ایسے احتجاج کی اجازت دی تھی اور اس سے پہلے اس طرح کے دو مظاہروں کے اجازت نامے نہ دینے کے پولیس کے فیصلے کو کالعدم کردیا تھا۔پولیس نے جنوری میں سکیورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے قرآن مجید کے نسخے نذرآتش کرنے کی اجازت نہیں دی تھی۔

جنوری میں اسٹاک ہوم میں ترکیہ کے سفارت خانے کے باہر مسلمانوں کی مقدس کتاب کو نذر آتش کرنے کے واقعے کے خلاف کئی ہفتوں تک مظاہرے ہوئے تھے۔سویڈش مصنوعات کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا گیا تھا اورسویڈن کی نیٹو رکنیت کی کوشش مزید تعطل کا شکار ہوگئی۔

سکینڈے نیویا کے ممالک میں بالخصوص ماضی میں بھی دریدہ دہنی کا مظہر اس طرح کے واقعات نے مسلم دنیا میں پرتشدد مظاہروں اور غم و غصے کو جنم دیا ہے۔انقرہ نے خاص طور پر اس بات پر اعتراض کیا تھا کہ پولیس نے جنوری کے مظاہرے کی اجازت دی تھی۔

ترکیہ نے سویڈن کی نیٹو کی رکنیت کی کوشش کو اس وجہ سے روک دیاتھا کہ وہ اسٹاک ہوم میں کرد گروپوں کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے میں ناکام رہا ہے۔ترکیہ ان کردگروپوں کو’’دہشت گرد‘‘ سمجھتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں