روس اور یوکرین

روس نے یوکرینی بچّوں کی حراست سے متعلق اقوام متحدہ کی رپورٹ مسترد کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

کریملن نے اقوام متحدہ کے ان الزامات کو مسترد کر دیا کہ روس نے یوکرین میں بچّوں کے حقوق کی خلاف ورزی کی ہے اور کہا ہے کہ اس کے برعکس اس کی مسلح افواج تنازعات والے علاقوں سے بچّوں کو بچا رہی ہیں۔

اقوام متحدہ نے منگل کو جاری کردہ ایک رپورٹ میں روس پر الزام عاید کیا ہے کہ اس نے گذشتہ سال فروری میں تنازع شروع ہونے کے بعد سے 800 سے زیادہ شہریوں کو حراست میں لیا ہے۔ان میں بعض بچے بھی شامل ہیں۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کی جانب سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں گذشتہ ہفتے پیش کی گئی ایک اور رپورٹ میں روس پر الزام عاید کیا گیا ہے کہ اس نے 2022 میں 136 بچّوں کو ہلاک کیا تھا۔

کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے بدھ کے روز معمول کی بریفنگ میں کہا کہ ماسکو اس طرح کے الزامات کو سختی سے مسترد کرتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ہماری فوج نے بار بار اپنی جانوں کو خطرے میں ڈالتے ہوئے بچّوں کو بچانے اور انھیں گولہ باری کے باوجود نکالنے کے لیے اقدامات کیے۔انھوں نے الزام عاید کیا کہ یوکرین کی مسلح افواج نے سویلین انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کے لیے گولہ باری کی تھی۔

روس یوکرین میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات کو مسترد کرتا چلا آرہا ہے اور اس بات کی بھی تردید کرتا ہے کہ وہ جان بوجھ کر شہریوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔

منگل کو اقوام متحدہ کی جاری کردہ رپورٹ 36 صفحات پر مشتمل ہے۔اس کے مندرجات حراستی مراکز کے 70 دوروں اور ایک ہزار سے زیادہ انٹرویوز پر مبنی ہیں۔اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یوکرین نے شہریوں کو من مانے طریقے سے حراست میں لے کر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔

انتونیو گوتریس کی نمائندہ خصوصی برائے بچوں اور مسلح تنازعات ورجینیا گامبا کی جانب سے مرتب کردہ گزشتہ ہفتے کی رپورٹ میں اقوام متحدہ نے اس بات کی بھی تصدیق کی تھی کہ روس کی مسلح افواج اور اس سے وابستہ گروہوں نے 2022 کے دوران میں 518 بچّوں کو معذور کیا اور اسکولوں اور اسپتالوں پر 480 حملے کیے تھے۔رپورٹ کے مطابق روسی مسلح افواج نے 91 بچوں کو انسانی ڈھال کے طور پر بھی استعمال کیا۔

ہیگ میں قائم بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) نے مارچ میں روسی صدر ولادی میر پوتین اور بچوں کے حقوق کے لیے ماسکو کی ایلچی ماریا لوفا بیلوفا کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے اور ان پر یوکرین سے بچّوں کو غیر قانونی طور پر ملک بدر کرنے کے جنگی جرم کا الزام عاید کیا تھا۔ماسکو کا کہنا ہے کہ یہ وارنٹ قانونی طور پر کالعدم ہیں کیونکہ روس آئی سی سی کا رکن ہی نہیں ہے۔

روس نے اس پروگرام کو نہیں چھپایا ہے جس کے تحت اس نے ہزاروں یوکرینی بچّوں کو ملک میں منتقل کیا ہے ، لیکن وہ اسے جنگ زدہ علاقوں میں بے سہارا ہوجانے والے یتیموں اور بچّوں کے تحفظ کے لیے ایک انسانی مہم کے طور پر پیش کرتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں