ترکیہ آیندہ جمعرات کو سویڈن کے ساتھ نیٹو رکنیت کی درخواست پر مذاکرات کرے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

معاہدہ شمالی اوقیانوس کی تنظیم نیٹو کے سربراہ جینز اسٹولٹن برگ نے کہا ہے کہ ترکیہ اور سویڈن کے اعلیٰ سفارت کار آیندہ جمعرات کو برسلز میں تنظیم کے ہیڈکوارٹرز میں ملاقات کریں گے اور اس میں اتحاد میں سویڈن کی شمولیت کے لیے کوششوں پر بات چیت کی جائے گی۔

اسٹولٹن برگ نے بدھ کے روز ایک نیوز کانفرنس میں کہ:’’اب وقت آ گیا ہے کہ سویڈن کو نیٹو کے مکمل رکن کے طور پر خوش آمدید کہا جائے‘‘۔

نیٹو کے رکن ممالک ترکیہ پر یہ زور دے رہے ہیں کہ وہ 11 اور 12 جولائی کو لیتھوانیا میں ہونے والے سربراہ اجلاس تک سویڈن کی رکنیت کی منظوری کا گرین سگنل دے۔

لیکن انقرہ کئی ماہ سے اسٹاک ہوم کی امریکا کی قیادت میں فوجی اتحاد میں شمولیت کی کوششوں کو روک رہا ہے اور اب یہ معاملہ تعطل کا شکار ہے۔

توقع کی جا رہی تھی کہ ہنگری کی پارلیمنٹ 7 جولائی کو اپنے ’’موسم گرما کے غیر معمولی اجلاس‘‘ کے اختتام تک سویڈن کی درخواست پر رائے شماری کرے گی، لیکن اس ہفتے اس کو اجلاس کے لیے آرڈر آف بزنس کے طور پر درج نہیں کیا گیا تھا۔

ہنگری نے بھی ابھی تک سویڈن کی رکنیت کی توثیق نہیں کی ہے۔اسٹولٹن برگ نے رواں ہفتے کے اوائل میں کہا تھا کہ مذاکرات میں ترکیہ، سویڈن اور فن لینڈ کے وزرائے خارجہ اور انٹیلی جنس مشیر شامل ہوں گے۔

سویڈن اور فن لینڈ نے گذشتہ سال کئی دہائیوں کی ہچکچاہٹ کو ختم کرتے ہوئے نیٹو میں شمولیت کے لیے باضابطہ طور پر درخواست دی تھی۔انھوں نے یہ فیصلہ روس کے یوکرین پر حملے کے بعد کیا تھا۔واضح رہے کہ کسی بھی نئے ملک کی نیٹو میں شمولیت کی درخواست کو تمام ممالک کی جانب سے منظورکیا جانا چاہیے اور ترکیہ نے اس پابندی کو سویڈن اور فن لینڈ میں کرد عسکریت پسندوں کی موجودگی کی بنا پر دونوں ممالک پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کیاہے۔

ترکیہ نے سویڈن کے نارڈک ہمسایہ ملک فن لینڈ کی اس سال کے اوائل میں شمولیت پر اپنے اعتراضات واپس لے لیے تھے اور ہیلسنکی اپریل میں نیٹو کا رکن بن گیا تھا۔

سویڈن جون 2022 سے نیٹو کا رکن بننے کا درخواست گزار ہے، لیکن اس کی رکنیت کی کوشش ترکیہ اور ہنگری نے روک دیا ہے۔اس کی رکنیت کی تمام 31 رکن ممالک سے توثیق ضروری ہے۔

مغربی حکام کو امید ہے کہ ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوآن گذشتہ ماہ دوبارہ انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد سفارتی طور پر اس معاملے پر اپنے مؤقف میں نرمی لائیں گے۔مغربی اتحادیوں اور اسٹاک ہوم کا بالاصرار کہنا ہے کہ سویڈن نے گذشتہ سال انقرہ کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کی شرائط کو پورا کردیا ہے۔

اس معاہدے میں ترکیہ کی حزب اختلاف کی کرد تحریکوں،کردستان ورکرز پارٹی( پی کے) کے خلاف کریک ڈاؤن کا عزم بھی شامل ہے۔اس تنظیم کو ترکیہ نے بلیک لسٹ کرکے دہشت گرد قرار دے رکھا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں