دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرنے پر ایران کینیڈا کو عالمی عدالت لے گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

کینیڈا کی جانب سے ایران کو دہشت گردوں کا سرپرست قرار دینے پر تہران نے شدید رد عمل کا اظہار کیا اور اسے عالمی عدالت انصاف میں لیے گیا ہے۔ ایران نے عالمی عدالت انصاف میں موقف اختیار کیا ہے دہشتگردوں کی فہرست میں شامل کرکے کینیڈا نے اس کے ریاستی استثنی کی خلاف ورزی کی ہے۔

کینیڈا نے 2012 میں ایران کو دہشت گردی کے سپانسر کے طور پر فہرست میں شامل کیا تھا۔ شام میں بشار الاسد کی حکومت کے لیے تہران کی حمایت، ایران کے ایٹمی پروگرام اور ایران سے اسرائیل کو لاحق خطرات کے باعث تعلقات کشیدہ ہونے کے بعد کینیڈا نے ایران سے سفارتی تعلقات توڑ دیے تھے۔

ایران نے کہا ہے کہ کینیڈا نے 2012 میں منظور کردہ ایک قانون کے ذریعے اس استثنیٰ کی خلاف ورزی کی ہے۔ یہ قانون متاثرین اور ان کے اہل خانہ کو دہشت گردی کے ریاستی سرپرستوں سے ہرجانے کی وصولی کی اجازت دیتا ہے۔ غیر ملکی ریاستیں عام طور پر کینیڈا کے شہری دعووں سے محفوظ رہتی ہیں۔ ہیگ میں قائم آئی سی جے نے ایک بیان میں کہا کہ ایران نے منگل کو کینیڈا کے خلاف ایک خودمختار ریاست کے طور پر اپنے استثنیٰ کی مبینہ خلاف ورزیوں سے متعلق قانونی کارروائی شروع کی تھی۔

ایران نے عدالت میں دائر کی گئی اپنی فائلنگ میں کہا کہ کینیڈا نے اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایران اور اس کی املاک کے خلاف قانون سازی، انتظامی اور عدالتی اقدامات کی ایک سیریز کو اپنایا اور نافذ کیا ہے۔

ایران نے بین الاقوامی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی" کے لیے کینیڈا سے معاوضے کا مطالبہ کردیا اور آئی سی جے سے کہا کہ وہ اوٹاوا سے کہے کہ وہ کینیڈا کی عدالتوں میں تہران کے خلاف کسی بھی فیصلے کو کالعدم قرار دے۔ کینیڈا کی طرف سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں