سعودی عرب کی اسٹاک ہوم کی مسجد کے باہر قرآن نذرآتش کرنے والے شدت پسندکی مذمت

متحدہ عرب امارات اور اردن کا سویڈش سفیر طلب کرکے قرآن مجید کی بے توقیری کے خلاف احتجاج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب نے سویڈن میں عید الاضحیٰ کی نماز کے بعد اسٹاک ہوم کی مرکزی مسجد کے باہر قرآن مجید کا نسخہ جلانے والے انتہا پسند کی شدید مذمت کی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق سویڈن میں اس دریدہ دہن عراقی تارک وطن نے مسلمانوں کی مقدس مذہبی کتاب کی سخت بے توقیری کی تھی اور قرآن کے نسخے سے صفحات پھاڑ کر پہلے ان سے اپنے جوتے پونچھے اور پھر انھیں آگ لگا دی تھی۔

سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے اسٹاک ہوم کی مرکزی مسجد کے باہر بدھ کو عید الاضحیٰ کی نماز کے بعد ایک انتہا پسند کی جانب سے قرآن پاک کا نسخہ نذر آتش کرنے کی شدید مذمت کی ہے۔

سعودی وزارتِ خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’ان نفرت انگیز اور بار بار کی جانے والی کارروائیوں کو کسی جواز کے ساتھ قبول نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ایسے واقعات واضح طور پر نفرت، اخراج اور نسل پرستی کو ہوا دیتے ہیں اور رواداری، اعتدال پسندی کے برعکس انتہا پسندی کو مسترد کرنے کی اقدار کو پھیلانے اور لوگوں اور ریاستوں کے درمیان تعلقات کے لیے ضروری باہمی احترام کو کمزور کرنے کی بین الاقوامی کوششوں کی براہ راست مخالفت کرتے ہیں‘‘۔

میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ اس موقع پر اسٹاک ہوم کی مسجد کے باہر موجود قریباً 200 افراد نے قرآن مجید کوآگ لگانے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے عربی زبان میں 'اللہ اکبر ، اللہ عظیم ہے‘ کے نعرے لگائے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز نے بتایا ہے کہ ایک شخص کو بدھ کے روز مسجد کے باہر قرآن پاک پھاڑنے اور جلانے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے اور اس پر ایک نسلی یا قومی گروہ کے خلاف احتجاج کرنے کا الزام عاید کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق پولیس نے ایک اور شخص کو بھی حراست میں لے لیا ہے ۔ وہ موقع پر موجود ایک عینی شاہد تھا اور اس نے اس دریدہ دہن انتہا پسند پر پتھر پھینکنے کی کوشش کی تھی۔

واضح رہے کہ سویڈش پولیس نے قرآن مخالف مظاہروں کی متعدد حالیہ درخواستیں مسترد کر دی ہیں جبکہ عدالتوں نے ان فیصلوں کو کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان سے اظہار رائے کی آزادی کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔

یواے ای اور اردن کا ردعمل

دریں اثناء متحدہ عرب امارات اور اردن نے اپنے ہاں تعینات سویڈش سفیروں کو طلب کیا ہے اور ان سے اسٹاک ہوم میں مرکزی مسجد کے باہر مسلمانوں کی مقدس کتاب قرآن مجید کی بے توقیری پر سخت احتجاج کیا ہے۔

متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ابوظبی میں تعینات سویڈن کے سفیر کو طلب کیا گیا ہے اور ان سے اسٹاک ہوم میں قرآن مجید کا ایک نسخہ جلائے جانے کے خلاف احتجاج کیا گیا ہے۔

اردن کی وزارت برائے امورِخارجہ اور تارکینِ وطن نے بھی ایک بیان میں کہا ہے کہ اس نے عمان میں تعینات سویڈش سفیر کو طلب کیا ہے اورانھیں قرآن مجید کی بے توقیری پر اردن کے سخت احتجاج سے آگاہ کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں