قبرص میں گرفتار ایرانی اسرائیلی مفاد کے خلاف حملے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا: موساد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد نے جمعرات کے روز دعویٰ کیا ہے کہ اس نے قبرص میں ایک اسرائیلی کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی کرنے والے ایرانی شخص کو’’گرفتار‘‘کر لیا ہے اور قبرص میں اس کی گرفتاری اس سے ’’ایرانی سرزمین پر‘‘پوچھ تاچھ کے نتیجے میں عمل میں آئی ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر نے گذشتہ اتوار کو قبرص میں اسرائیلی اہداف کے خلاف ایرانی دہشت گرد حملے کو ناکام بنانے کی تعریف کی تھی اور اس کے بعد یہ غیر معمولی بیان سامنے آیا ہے۔

قبرصی حکام نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے لیکن مقامی میڈیا نے نامعلوم ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ بحیرہ روم کے منقسم جزیرے کے شمال میں واقع الگ ریاست (شمالی قبرص) سے تعلق رکھنے والے مشتبہ افراد کے اسرائیلی یا یہودی اہداف پر حملہ آور ہونے کا منصوبہ ناکام بنایا گیا ہے۔

موساد کا کہنا ہے کہ یوسف شہبازی عباس علیلو نامی ایک ایرانی شخص کو ایرانی سرزمین پر انسداد دہشت گردی کی کارروائی کے دوران میں گرفتار کیا گیا تھا۔

اسرائیلی ایجنسی کے مطابق تفتیش کے دوران میں اس نے اعتراف کیا کہ اسے قبرص میں ایک اسرائیلی تاجر کے بارے میں ’’ایران میں (سپاہ پاسداران انقلاب) کے سینیر اہلکاروں سے تفصیلی ہدایات اور ہتھیار ملے تھے‘‘۔

موساد کی جانب سے جاری کردہ ایک ویڈیو میں ایک شخص کو قبرص پہنچنے کی تفصیل بتاتے ہوئے اور وہاں موجود 'پاکستانیوں' کی مدد سے ایک اسرائیلی کو ہلاک کرنے کی تیاری کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے لیکن اس ویڈیو کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی۔

اس کے بعد اس شخص کو ایرانی نگرانوں نے ایران واپس جانے کا حکم دیا تھا کیونکہ قبرصی پولیس اس کا پیچھا کررہی تھی۔

موساد کا کہنا تھا کہ ’’اس نے تفتیش کاروں کو جو معلومات فراہم کی تھیں،اس کے بعد قبرص کی سکیورٹی سروسز نے ایک کارروائی کے دوران میں اس سیل کو ختم کر دیا تھا‘‘۔

اسرائیلی ایجنسی کا کہنا ہے کہ اس نے’’دنیا بھر میں اسرائیلیوں اور یہودیوں کو نقصان پہنچانے اور دہشت گرد حملوں کو انجام دینے کی جاری کوششوں کے ایک حصے کو بے نقاب کیا ہے‘‘۔

رواں ماہ کے اوائل میں نیتن یاہو نے کہا تھا کہ اسرائیل کو درپیش زیادہ تر سکیورٹی مسائل ایران اور اس کے آلہ کاروں کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں۔

اسرائیل اپنے روایتی دشمن ملک پر جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا الزام عاید کرتا ہے۔تاہم ایران اس دعوے کی تردید کرتا ہے۔

نیتن یاہو نے جمعرات کے روز ایک فوجی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل تہران کے جوہری پروگرام سے متعلق کسی بھی بین الاقوامی معاہدے کا پابند نہیں ہوگا۔انھوں نے مزید کہا:’’ہم کسی بھی خطرے سے اپنا دفاع کرنے کا حق اور فرض برقرار رکھیں گے‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں