ایران جوہری معاہدہ

اسرائیل مستقبل قریب میں ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ آورنہیں ہورہا:مشیر نیتن یاہو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

صہیونی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کے مشیر برائے قومی سلامتی نے کہا ہے کہ اسرائیل ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کے قریب نہیں ہے جبکہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کے لیے بالواسطہ مذاکرات بھی جاری ہیں۔

زاچی ہانیجبی نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا:’’ابھی تک یہ واضح نہیں کہ اسرائیل کے اہم اتحادی امریکا کے ایران کے ساتھ حالیہ ہفتوں کے دوران میں ہونے والے مذاکرات کا کیا نتیجہ نکلے گا۔ان کا مقصد ایسے اقدامات کا خاکا پیش کرنا ہے جن سے تہران کے جوہری پروگرام کو محدود کیا جا سکے اور کشیدگی میں کمی لائی جا سکے‘‘۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی معاہدہ اسرائیل کو پابند نہیں کرے گا، جو جوہری ہتھیاروں سے لیس ایران کو اپنے وجود کے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔یہ پوچھے جانے پر کہ کیا ایران کے خلاف پیشگی حملے کے بارے میں اسرائیل کا فیصلہ قریب ہے، ہانیبجی نے کہا:’’ہم حملے قریب نہیں آ رہے ہیں کیونکہ ایرانیوں نے کچھ عرصے سے جوہری پروگرام کو روک دیا ہے، وہ یورینیم کو اس سطح تک افزودہ نہیں کر رہے ہیں جو ہمارے خیال میں ریڈ لائن ہے‘‘۔

ان کا کہنا تھا کہ لیکن ایسا ممکن ہے۔لہٰذا ہم اس وقت کی تیاری کر رہے ہیں، اگرایسا ہوتا ہے تو ہمیں اسرائیل کے عوام کا دفاع ایک جنونی حکومت کے خلاف کرنا ہوگا جو ہمیں تباہ کرنا چاہتی ہے اور بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں سے لیس ہے۔

صہیونی وزیراعظم نیتن یاہو نے ایران کی یورینیم کی افزودگی کے حوالے سے 'ریڈ لائن' قائم کر رکھی ہے اور یہ یورینیم کو90 فی صد تک مصفا کرنا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل ایران کو جوہری بم کی تیاری کے لیے درکار سطح تک یورینیم افزودہ نہیں کرنے دے گا۔ایران نے حالیہ برسوں میں افزودگی کو 60 فی صد تک بڑھا دیا ہے۔

سنہ 2015ء میں طے شدہ جوہری معاہدے کو بحال کرنے میں ناکام رہنے کے بعد، جس میں تہران کی افزودگی کی حد 3.67 فی صد مقرر کی گئی تھی، ایرانی اور مغربی حکام نے ایسے اقدامات کا خاکا تیار کیا ہے جو اس کے تیزی سے بڑھتے ہوئے جوہری کام کو روک سکتے ہیں۔

اس جوہری معاہدے نے ایران کی یورینیم کی افزودگی کو محدود کر دیا تھا تاکہ تہران کے لیے جوہری ہتھیار تیار کرنے کے ذرائع تیار کرنا مشکل ہو جائے جبکہ ایران اس طرح کے عزائم سے انکار کرتا ہے۔اس کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پُرامن مقاصد کے لیے ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں