اقوام متحدہ نے اسرائیلی بستیوں سے متعلق 15 کمپنیوں کو فہرست سے نکال دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

برطانیہ، آسٹریلیا اور کینیڈا نے ایک مشترکہ بیان میں اسرائیلی حکومت کی طرف سے مغربی کنارے میں نئے آبادکاری یونٹس کے قیام کی منظوری اور تشدد کے سلسلے کو جاری رکھنے پر اپنی "سنگین تشویش" کا اظہار کیا ہے۔

جمعہ کے روز جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہودی بستیوں کی مسلسل توسیع امن کی راہ میں رکاوٹ ہے اور مذاکرات کے ذریعے دو ریاستی حل کے حصول کی کوششوں کو منفی طور پر متاثر کرتی ہے۔ ہم اسرائیل کی حکومت سے ان فیصلوں کو واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہیں۔"

ایک متعلقہ سیاق وسباق میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر کی ایک ترجمان روینہ شامدسانی نے جمعہ کو بتایا کہ دفتر نے ان کمپنیوں کی تازہ ترین فہرست جاری کی ہے جو اسرائیلی بستیوں سے لین دین کرتی ہیں۔ تازہ فہرست سے قبل 15 کمپنیوں کے نام فہرست سے نکال دیے گئے تھے۔

فہرست کو طویل انتظار کے بعد اپ ڈیٹ کیا گیا۔ یہ فہرست گذشتہ 15 مہینوں میں مغربی کنارے میں تشدد میں اضافے کے درمیان سامنے آئی ہے، جس میں جنین جیسے مشتعل شہروں میں اسرائیلی فوج کے چھاپوں کے دوران ہلاکت خیز جھڑپیں، اسرائیلی آباد کاروں کے خلاف فلسطینی عسکریت پسندوں کے مہلک حملوں کا سلسلہ اور فلسطینی دیہات میں اسرائیلی آباد کاروں کے حملوں کے واقعات شامل ہیں۔

شامدسانی نے ایک اخباری بیان میں کہا کہ اقوام متحدہ کی فہرست کا دائرہ بجٹ کی رکاوٹوں کی وجہ سے محدود ہے اور انسانی حقوق کا دفتر صرف اصل فہرست کا جائزہ لے سکا جس میں 112 کمپنیاں شامل ہیں۔

اسرائیل نے ابھی تک فہرست کو اپ ڈیٹ کرنے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے پہلے موقف کو مسترد کر دیا تھا۔ اس نے اسرائیل پر اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل کی "غیر متناسب توجہ" پر طویل عرصے سے احتجاج کیا ہے۔

کونسل نے یہ فہرست 2016 میں جاری کی تھی، لیکن اسے 2020 تک جاری نہیں کیا گیا تھا۔ سول سوسائٹی کے گروپوں کا کہنا ہے کہ یہ فہرست مغربی کنارے میں کاروباری سرگرمیوں کے بارے میں شفافیت کو یقینی بنانے اور کاروباری برادری کو مقبوضہ علاقوں میں اپنی سرگرمیوں پر نظر ثانی کرنے کی ترغیب دینے کے لیے ایک اہم ذریعہ ہے۔

فہرست میں شامل زیادہ تر کمپنیاں اسرائیل میں ہیں لیکن اس میں امریکا، برطانیہ اور فرانس سمیت دیگر بین الاقوامی کمپنیاں بھی شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں