بائیڈن نے القاعدہ سے متعلق حقیقت تسلیم کر لی: افغان طالبان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

افغانستان کی طالبان حکومت نے ہفتے کے روز امریکی صدر جو بائیڈن کے القاعدہ سے متعلق بے سوچے سمجھے بیان کا ترکی بہ ترکی جواب دیا ہے اور کہا ہے کہ ملک میں القاعدہ سے درپیش کوئی خطرہ نہیں ہے۔

بائیڈن جمعہ کے روز امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے طلبہ کے قرضوں میں ریلیف پروگرام کو روکنے کے فیصلے پر ایک پریس کانفرنس کر رہے تھے جب ایک رپورٹر نے ان سے پوچھا کہ کیا وہ 2021 میں افغانستان سے انخلا کے دوران میں غلطیوں کا اعتراف کرتے ہیں۔

’’نہیں، نہیں‘‘۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق انھوں نے جواب دیا اور کہا کہ تمام شواہد واپس آ رہے ہیں۔

انھوں نے کہا:’’کیا آپ کو یاد ہے کہ میں نے افغانستان کے بارے میں کیا کہا تھا؟ میں نے کہا کہ القاعدہ وہاں نہیں ہوگی۔ میں نے کہا کہ یہ وہاں نہیں ہوگا۔ میں نے کہا کہ ہمیں طالبان سے مدد ملے گی۔ اب کیا ہو رہا ہے؟ کيا ہو رہا ہے؟اپنا پریس پڑھیں. میں ٹھیک کہہ رہا تھا‘‘۔

یہ سوال جمعے کو جاری ہونے والی ایک رپورٹ کی بناپر اٹھایا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ 2021 میں افغانستان سے بڑے پیمانے پر انخلا کے دوران میں امریکی حکام کو واضح فیصلہ سازی کی کمی، مرکزی بحران کے انتظام کی عدم موجودگی اور عوامی پیغام رسانی میں الجھن کی وجہ سے رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑا۔

امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلینکن نے افغانستان میں 20 سالہ امریکی فوج کی موجودگی کے خاتمے کے بعد کابل میں افراتفری کے مناظر پر برہمی کا اظہار کیا تھا اور بعد از کارروائی جائزے کا حکم دیا تھا۔

افغان وزارت خارجہ نے بائیڈن کے بیان پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم امریکی صدر جو بائیڈن کے افغانستان میں مسلح گروہوں کی عدم موجودگی کے بیان کو حقیقت کا اعتراف سمجھتے ہیں۔

بیان میں اقوام متحدہ کی پابندیوں کی نگرانی کرنے والی ٹیم کی حالیہ رپورٹ کی تردید کی گئی ہے جس میں افغانستان میں 20 سے زیادہ مسلح گروہوں کی موجودگی کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

مئی میں اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ایسے اشارے ملے ہیں کہ جنگ زدہ ملک میں القاعدہ جیسے مسلح گروہ دوبارہ منظم ہو رہے ہیں۔بیان میں کہا گیا ہے کہ طالبان اور القاعدہ اور تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) دونوں کے درمیان رابطے مضبوط اور باہمی ہیں۔

اس رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ’’طالبان حکام کے تحت کئی دہشت گرد گروہوں کو زیادہ آزادی حاصل ہے۔ وہ اس کا اچھا استعمال کر رہے ہیں اور افغانستان اور خطے دونوں میں دہشت گردی کا خطرہ بڑھ رہا ہے‘‘۔

تاہم طالبان حکمرانوں کا اصرار ہے کہ وہ ملک کی سرزمین کو دیگر ممالک کے خلاف سازش کرنے والے مسلح گروہوں کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیتے اور القاعدہ کی موجودگی سے انکار کرتے ہیں۔

انھوں نے گذشتہ سال کابل کے وسط میں امریکی ڈرون حملے میں القاعدہ کے رہ نما ایمن الظواہری کی ہلاکت کا اعتراف نہیں کیا ہے اور کہا ہے کہ اس واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں