قرآن کریم کی بے حرمتی: بغداد میں سویڈش سفارتخانہ کے باہر احتجاج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سویڈن میں سٹاک ہوم کی ایک مسجد کے باہر ایک انتہا پسند شخص کی جانب سے قرآن مجید کو ۔۔ نعوذ باللہ ۔۔ نذر آتش کیے جانے کے بعد جمعہ کے روز عراقی شہر بغداد میں سویڈن کے سفارت خانے کے سامنے ہزاروں افراد احتجاجی مظاہرہ کیا اور سویڈن کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کرنے کا مطالبہ کردیا۔

مظاہرین نے مقتدی الصدر، ان کے والد اور ایک ممتاز عالم دین کی تصویریں بھی اٹھا رکھی تھیں۔ عراقی پرچم اٹھا کر مظاہرین نے " لبیک، لبیک قرآن، مقتدی مقتدی‘‘کے نعرے لگائے۔ اس دوران مظاہرین نے ایل جی بی ٹی کی نمائندگی کرنے والے جھنڈوں کو بھی آگ لگائی۔ مظاہرین قوس قزح کے رنگوں والے ان جھنڈوں کو پاؤں تلے روندتے رہے اور پس منظر میں آیات قرآنیہ پڑھی جاتی رہیں۔

قرآن کریم کی بے حرمتی اور’’ایل جی بی ٹی‘‘ برادری کے درمیان بظاہر تعلق واضح نہیں ہے تاہم مقتدی الصدر نے اپنے پیروکاروں پر زور دیا کہ محرم کی آٹھویں تاریخ تک ’’ ایل جی بی ٹی‘‘ کے جھنڈے جلاتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا یہی چیز سب سے زیادہ پریشان کن ہے۔

واضح رہے مقتدی الصدر نے جمعرات کو بغداد میں سویڈش سفارت خانے کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہروں کی اپیل کی تھی اور سویڈش سفیر کو ملک بدر کرنے اور سویڈن کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

سویڈن کی پولیس نے قرآن کریم کو ۔۔ نعوذ باللہ ۔۔ نذر آتش کرنے والے گستاخ پر نسلی یا قومی گروہ کے خلاف مظاہرہ کرنے کا الزام لگایا۔ ایک اخباری انٹرویو میں انتہا پسند نے خود کو عراقی پناہ گزین قرار دیا۔

عراق کی وزارت خارجہ نے جمعرات کو سویڈن کے سفیر کو طلب کیا اور سویڈن کی حکومت پر زور دیا کہ وہ اس شخص کو حوالے کرے تاکہ اس کے خلاف عراقی قانون کے مطابق مقدمہ چلایا جا سکے۔

سویڈش پولیس نے قرآن مخالف مظاہروں کے لیے حالیہ کئی درخواستوں کو مسترد کر دیا تھا تاہم عدالتوں نے پولیس کے فیصلوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ قرآن مجید کے خلاف مظاہروں پر پابندی آزادی اظہار کی خلاف ورزی ہے اور ایسے مظاہروں کو مت روکا جائے۔

ترکیہ، امارات، اردن اور مراکش سمیت کئی مسلم ملکوں کی حکومتوں نے بھی اس اشتعال انگیز مظاہرے کے خلاف احتجاج کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں