ڈچ بادشاہ ولیم الیگزینڈر نے غلامی میں نیدرلینڈز کے تاریخی کردار پرمعافی مانگ لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ڈچ بادشاہ ولیم الیگزینڈر نے نیدرلینڈز کے غلامی میں تاریخی کردار اور اس کے اثرات پر معافی مانگ لی ہے۔

شاہ نے نیدرلینڈز میں غلامی کے قانونی خاتمے کی 160 ویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ ایک تقریب سے خطاب میں اس معذرت کا اظہار کیا ہے۔انھوں نے کہا:’’اس دن جب ہم ڈچ غلامی کی تاریخ کو یاد کرتے ہیں، میں انسانیت کے خلاف اس جرم پرمعافی مانگتا ہوں۔ہالینڈ کے معاشرے میں نسل پرستی ایک مسئلہ ہے اور ہر کوئی اس معافی کی حمایت نہیں کرے گا‘‘۔

’’اب وقت بدل چکا ہے اور کیٹی کوٹی ...غلامی کی زنجیریں واقعی ٹوٹ چکی ہیں‘‘۔انھوں نے ایمسٹرڈیم کے اوسٹر پارک میں غلامی کی قومی یادگار پر ہزاروں تماشائیوں کی تالیوں کی گونج میں کہا۔

’’کیٹی کوٹی‘‘کے الفاظ کا مطلب ہے ’زنجیر ٹوٹ گئی ہے‘‘ اور یہ یکم جولائی کو غلامی کی یاد میں اور آزادی کے جشن کے دن کے طور پر دیا جانے والا عنوان ہے۔

ڈچ شاہ کی یہ معافی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب نیدرلینڈز کے نوآبادیاتی ماضی پر وسیع پیمانے پر نظرثانی کی جا رہی ہے، جس میں اٹلانٹک غلاموں کی تجارت اور اس کی سابقہ ایشیائی کالونیوں میں غلامی دونوں میں کردار شامل ہے۔

ولیم الیگزینڈر نے 2020 میں ڈچ نوآبادیاتی حکمرانی کے دوران میں’’حد سے زیادہ تشدد‘‘پرانڈونیشیا سے معافی مانگی تھی۔دسمبر میں ڈچ وزیراعظم مارک روٹے نے تسلیم کیا کہ اٹلانٹک غلاموں کی تجارت میں ڈچ ریاست ذمہ دار تھی اور اس نے اس سے فائدہ اٹھایا تھا اوراب وہ اس پر معافی مانگتی ہے۔

روٹے نے کہا کہ حکومت معاوضہ ادا نہیں کرے گی، جیسا کہ ایک مشاورتی پینل نے 2021ء میں سفارش کی تھی۔

گذشتہ ماہ حکومت کی جانب سے شائع شدہ تحقیقاتی رپورٹ سے پتا چلا تھا کہ ہاؤس آف اورنج نے 1675سے 1770 تک ڈچ کالونیوں سے جدید لحاظ سے قریباً 60 کروڑ ڈالر کا منافع کمایا تھا۔اس میں سے زیادہ تر رقم ڈچ ایسٹ انڈیا کمپنی کی مسالا جات کی تجارت کے منافع سے تحفے کے طور پر دی گئی تھی۔

رائل ہاؤس نے دسمبر میں نوآبادیاتی تاریخ میں شاہی خاندان کے کردار کی آزادانہ تحقیقات کا آغاز کیا تھا جس کے نتائج 2025 میں متوقع ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں