ہیری نے فون ہیکنگ کیس میں 4 لاکھ ڈالر ہرجانے کا مطالبہ کردیا

برطانوی شہزادے نے ایم جی این گروپ کے اخبارات میں شائع 33 مضامین کا معاوضہ ادا کرنے کا کہا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

جمعہ کو شائع عدالتی دستاویزات میں انکشاف کیا گیا ہے کہ شہزادہ ہیری نے مرر گروپ نیوز پیپرز (ایم جی این) سے 3 لاکھ 20 ہزار پاؤنڈ ہرجانے کا مطالبہ کردیا ہے۔ یہ رقم 4 لاکھ 5 ہزار ڈالر کے مساوی ہے۔ اس ہرجانے کا مطالبہ اپنے فون سے معلومات لیک کیے جانے پر کیا گیا۔ شہزادے ہیری کے فون کی ہیکنگ کے مقدمے کی سماعت ختم ہو رہی ہے۔

شہزادہ اور تقریباً 100 دیگر افراد اس فاؤنڈیشن کے خلاف مقدمہ دائر کر رہے ہیں جو ڈیلی ٹریفک، سنڈے مرر اور سنڈے پیپل اخبارات شائع کرتی ہے۔ لندن کی ہائی کورٹ میں ان کا کہنا ہے کہ 1991 اور 2011 کے درمیان فون کی ہیکنگ اور معلومات کو غیر قانونی طور پر اکٹھا کیا گیا تھا۔

استغاثہ کا کہنا ہے کہ تنظیم کے سینئر ایڈیٹرز اور ایگزیکٹوز کو غلط کام کا علم تھا اور انہوں نے اس کی منظوری دی تھی۔ دوسری طرف ایم جی این کا کہنا ہے کہ ان الزامات کو ثابت کرنے کے لیے کوئی ثبوت موجود نہیں ہیں۔

شہزادہ ہیری نے کہا ہے کہ فاؤنڈیشن نے انہیں 1996 سے لے کر اگلے 15 سال تک نشانہ بنایا اور فاؤنڈیشن کے اخبارات میں شائع ہونے والی 140 سے زائد خبریں اس طرح سے معلومات اکٹھی کرنے کا نتیجہ تھیں جو قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے حاصل کی گئی تھیں۔ اس مقدمہ میں شائع ہونے والی صرف 33 سٹوریز پر غور کیا جارہا ہے۔

جمعہ کو شائع عدالتی دستاویزات کے مطابق شہزادے نے 33 آرٹیکلز کے سلسلے میں 3 لاکھ 20 ہزار پاؤنڈ سٹرلنگ تک کے ہرجانے کا دعویٰ کیا۔ یہ رقم شہزادہ کو اس صورت میں ملے گی اگر عدالت ان کے حق میں فیصلہ دے دے۔

ایم جی این کا کہنا ہے کہ مقدمے میں مضامین غیر قانونی معلومات اکٹھا کرنے کی بنیاد پر شائع نہیں کیے گئے تھے۔ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ شہزادہ ہیری کا فون ہیک کیا گیا تھا۔

عدالتی دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ پبلشر نے کہا کہ عدالت چاہے تمام مضامبن میں ہیری کے حق میں فیصلہ دے دے تو بھی ہیری صرف 37 ہزار پاؤنڈ کے حقدار ہوں گے۔

فاؤنڈیشن نے مئی میں مقدمے کے آغاز پر تسلیم کیا تھا کہ اس نے ایک بار 2004 میں پرنس ہیری کے بارے میں غیر قانونی طور پر معلومات اکٹھی کرنے کے لیے ایک نجی تفتیش کار کی خدمات حاصل کی تھیں۔ حالانکہ شائع شدہ مضمون مقدمے میں شامل بھی نہیں ہے۔ مقدمہ کی سماعت جمعہ کو ختم ہوگئی لیکن ابھی کئی مہینوں تک فیصلہ متوقع نہیں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں