قرآن کو آگ لگانا ’جارحانہ، توہین آمیز اور اشتعال انگیز اقدام ہے‘: یورپی یونین کی مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

یورپی یونین نے قرآن کا نسخہ نذر آتش کرنے کے واقعے کو شدید انداز میں مسترد کرتے ہوئے اسے ’جارحانہ، توہین آمیز اور اشتعال انگیزی پر مبنی اقدام‘ قرار دیا ہے۔

ایک بیان میں یورپی یونین نے کا کہنا تھا کہ ’یہ واقعہ قطعی طور پر یورپی یونین کے نظریات کی عکاسی نہیں کرتا۔ نسل پرستی، غیر ملکیوں کے خلاف تعصب اور اس سے متعلقہ عدم برداشت کی یورپ میں کوئی جگہ نہیں ہے۔‘

یورپی یونین کے بیان کے مطابق ’قرآن جلانے کا یہ عمل اس لحاظ سے بھی زیادہ افسوسناک ہے کہ یہ ایسے وقت میں کیا گیا جب مسلمان عیدالاضحیٰ منا رہے تھے۔‘

بیان میں مزید کہا گیا کہ ’یورپی یونین بیرون ملک اور اندرون ملک مذہب یا عقیدے اور اظہار رائے کی آزادی کے لیے کھڑی ہے۔‘

یورپی یونین نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ بغداد صورت حال کو قریب سے دیکھ رہی ہے اور پرسکون رہنے اور تحمل سے کام لینے پر زور دیتی ہے۔

جمعے کو عراق کے دارالحکومت بغداد میں سویڈن کے سفارتخانے کے سامنے شیعہ عالم دین مقتدیٰ الصدر کے ہزاروں کی تعداد میں حامیوں نے مظاہرہ کیا تھا اور سویڈن کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔

یورپی یونین کی سفارتی سروس کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں کہا گیا کہ ’ہم سفارتی احاطوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں۔‘

دوسری جانب اسی واقعے پر غور کرنے کے لیے اسلامی تعاون تنظیم کی ایگزیکٹو کمیٹی نے ہنگامی اجلاس طلب کر رکھا ہے۔

اسلامی تعاون تنظیم کے ترجمان نے کہا ہے کہ اجلاس میں ’اس گھناؤنے فعل کے خلاف کیے جانے والے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا اور ضروری اقدامات سے متعلق اجتماعی موقف اپنایا جائے گا۔‘

اس سے قبل سویڈن کی وزارت خارجہ نے بھی قرآن مجید کو نذر آتش کرنے پر سخت ردعمل کا اظہار کیا تھا۔

مظاہرین نے سویڈن کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ فوٹو: اے ایف پی

بدھ کے روز سٹاک ہوم کی سب سے بڑی مسجد کے سامنے عراق سے تعلق رکھنے والے 37 سالہ پناہ گزین سلوان مومیکا کی جانب سے قرآن کی بے حرمتی اور اس کے صفحات کو نذر آتش کرنے کے بعد سے مسلم اور عرب دنیا میں بڑے پیمانے پر غم و غصہ کا اظہار اور مذمت کی جا رہی ہے۔

پورے مشرق وسطیٰ اور اس سے باہر کے ممالک نے قرآن کے نسخے کو آگ لگانے کی مذمت کی، کچھ ممالک نے اپنے سفیروں کو واپس بلا لیا اور وزارت خارجہ نے سویڈن کے سفیروں کو سرکاری احتجاج سننے کے لیے اپنے ممالک میں طلب کیا۔

پاکستان سمیت سعودی عرب، ایران، عراق اور مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک نے سویڈن میں قرآن کی بے حرمتی کی مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ اس طرح کا عمل دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچاتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں