او آئی سی کا ہنگامی اجلاس؛ قرآن مجید کی بے حرمتی کے خلاف اجتماعی اقدامات کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے قرآن مجید کی بے حرمتی کے واقعات کی روک تھام کے لیے اجتماعی اقدامات کی ضرورت پرزوردیا ہے اور کہا ہے کہ مذہبی منافرت کو روکنے کے لیے بین الاقوامی قوانین کو بروئے کارلایاجانا چاہیے۔

یہ بیان سعودی عرب کے شہر جدہ میں اتوار کو تنظیم کے ایک غیر معمولی اجلاس کے بعد جاری کیا گیا ہے۔اس اجلاس میں سویڈن میں گذشتہ بدھ کو عیدالاضحیٰ کے موقع پرقرآن مجید کی بے حرمتی کے واقعے اور اس کے مضمرات پرتبادلہ خیال کیا گیا ہے۔

او آئی سی کے سیکرٹری جنرل حسین ابراہیم طٰہٰ نے کہا کہ ہمیں بین الاقوامی قانون کے فوری اطلاق کے بارے میں بین الاقوامی برادری کو مسلسل یاد دہانی کرانی چاہیے۔یہ قانون واضح طور پر مذہبی منافرت کی وکالت کی ممانعت کرتا ہے۔

کئی سال قبل عراق سے راہ فراراختیار کرکے سویڈن پناہ گزین ہونے والے ایک شخص نے عیدالاضحیٰ کے پہلے روز اسٹاک ہوم کی مرکزی مسجد کے باہر قرآن پاک کے اوراق کو پھاڑ کر جلا دیا تھا۔ سویڈش پولیس نے اس پر ایک نسلی یا قومی گروپ کے خلاف احتجاج کرنے اور جون کے وسط سے اسٹاک ہوم میں آگ لگانے پرعاید پابندی کی خلاف ورزی کا الزام عاید کیا تھا۔

پاکستان، ترکیہ، اردن، فلسطین، سعودی عرب، مراکش، عراق اور ایران سمیت متعدد ممالک کی جانب سے اس اقدام پر سخت تنقید کی گئی ہے۔او آئی سی نے واقعہ کے ایک روز بعد اعلان کیا تھا کہ وہ اس معاملے پر تبادلہ خیال کے لیے اپنی ایگزیکٹو کمیٹی کا ہنگامی اجلاس طلب کرے گی۔

ستاون ممالک پر مشتمل بین الحکومتی تنظیم نے ایک بیان میں کہا تھا کہ یہ اجلاس سعودی عرب نے اسلامی تعاون تنظیم کے چیئرمین کی حیثیت سے طلب کیا ہے اور یہ سعودی شہر جدہ میں او آئی سی کے صدر دفتر میں ہوگا۔

اس سے قبل ایک بیان میں او آئی سی نے اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس طرح کا اقدام رواداری، اعتدال پسندی اور انتہا پسندی کے خاتمے کی اقدار کو پھیلانے کی بین الاقوامی کوششوں کے منافی ہے۔

بیان میں اس طرح کے قابل مذمت اقدامات کی مذمت کا اعادہ کیا گیا ہے جو کچھ انتہا پسند جان بوجھ کر کرتے ہیں اور دنیا بھر کی متعلقہ حکومتوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ ایسے واقعات کے اعادہ کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔

او آئی سی نے عالمی سطح پر انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں کے احترام کو فروغ دینے اور ان کی حوصلہ افزائی کے سلسلے میں اقوام متحدہ کے منشورپرعمل کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا تھا۔

دریں اثنا، ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے کہا ہے کہ ان کا ملک اس واقعے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے سویڈن میں اپنا نیا سفیر فی الوقت نہیں بھیجے گا۔

انھوں نے ٹویٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ اگرچہ سویڈن میں نئے سفیر کی تعیناتی کا انتظامی طریق کار مکمل ہوچکا ہے لیکن سویڈش حکومت کی جانب سے قرآن پاک کی بے حرمتی کا اجازت نامہ جاری کرنے کی وجہ سے انھیں بھیجنے کا عمل روک دیا گیا ہے۔انھوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ ایران کب تک سویڈن میں اپنا سفیر بھیجنے سے گریزاں رہے گا۔

ایران کی وزارت خارجہ نے جمعرات کے روز سویڈن کے ناظم الامور کو طلب کر کے اس واقعے کی مذمت کی تھی اور اسے مقدس ترین اسلامی کتاب کی توہین قرار دیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں