بسترگیلا کرنے پر پولیس اہلکار نے تین اور چار سال کےاپنے بچے جیل میں ڈال دیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

کم سن بچوں کا بسترپرپیشاب کرنا تومعمول کی بات ہے مگرکسی ایسے بچے کو بستر گیلا کرنے پراسے جیل میں ڈالنا حیران کن بات ہے۔ یہ محض افسانہ نہیں بلکہ حقیقی واقعہ ہے کہ ایک والد جو خود پولیس میں ملازہے نے اپنے بچوں کو بستر گیلا کر نے پر جیل میں منتقل کیا تھا۔

تین سال کی عمر میں بچے ٹوائلٹ کے استعمال کی تربیت دینے کا عمل شروع ہوتا ہے مگر اس کے باوجود اتنی عمر کے بچوں کا بسترگیلا کردینا کوئی حیران کن بات نہیں۔

امریکی ریاست فلوریڈا کی والیوسیا کاؤنٹی میں ہونے والی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ مائیکل شوئن بروڈ نامی ایک لیفٹیننٹ اپنے بچے کو گذشتہ اکتوبر میں لگاتار کئی بار جیل لے کر آیا اور اس کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں لگائی گئیں۔

شوئن بروڈ نے فلوریڈا کے محکمہ اطفال کے ایک ماہر کے ساتھ ایک انٹرویو کے دوران اعتراف کیا کہ اس کے خوفزدہ بچے نے سزا کے بعد وعدہ کیا تھا کہ سزا کے بعد وہ اپنا بستر دوبارہ کبھی گیلا نہیں کرے گا۔

پولیس اہلکار نے اپنے بچے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ"وہ رو رہا تھا"۔ اس انٹرویو کی ایک فوٹیج واشنگٹن پوسٹ کی ویب سائٹ پر بھی نشر کی گئی ہے۔

اس نے اپنے دوسرے بیٹے کے ساتھ بھی ایسا ہی کیا

شوئن بروڈ نے انٹرویو میں اعتراف کیا کہ اس نے اپنے بڑے بیٹے کے ساتھ بھی ایسا ہی کیا تھا جب وہ چار سال کا تھا۔ اس نے کہا کہ بچے کو نرسری میں اس کے رویے کی وجہ سے جیل لے جایا گیا۔ اسے جیل لے جانا موثر ثابت ہوا۔

اس واقعے کی سب سے پہلے بدھ کو ڈیٹونا بیچ نیوز جرنل نے اطلاع دی تھی، جس میں اس بارے میں سوالات اٹھائے گئے تھے کہ آیا شوئن بروڈ اور لڑکے کی ماں کو ڈیٹونا بیچ شورز ڈیپارٹمنٹ آف پبلک سیفٹی کی جانب سے بچے کو جیل میں ڈالنے کے لیے کس طرح کے الزامات کا سامنا کرنا پڑا۔

یہ قابل ذکر ہے کہ میو کلینک کے مطابق بہت سے بچے 18 ماہ سے 24 ماہ کے درمیان ہونے پر پوٹی ٹریننگ کے لیے تیار ہونے کی علامات ظاہر کرتے ہیں اور کچھ 3 سال کی عمر تک تیار نہیں ہوسکتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں