سویڈش حکومت نے قرآن پاک کو جلانے کی مذمت کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سویڈن کی حکومت نے اسٹاک ہوم کی مرکزی مسجد کے باہر گذشتہ بدھ کو قرآن مجید کو نذر آتش کرنے کی مذمت کرتے ہوئے اسے 'اسلاموفوبیا' عمل قرار دیا ہے۔

سویڈش وزارت خارجہ کی جانب سے اتوار کو جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت اس بات کو بخوبی سمجھتی ہے کہ سویڈن میں ہونے والے مظاہروں کے دوران میں لوگوں کی جانب سے کی جانے والی اسلامو فوبیا کارروائیاں مسلمانوں کے خلاف توہین آمیز ہو سکتی ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’’ہم ان اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہیں جو کسی بھی طرح سویڈش حکومت کے خیالات کی عکاسی نہیں کرتے‘‘۔

اس مذمتی بیان سے قبل سعودی عرب میں قائم اسلامی تعاون تنظیم نے اپنے ایک ہنگامی اجلاس میں مستقبل میں قرآن مجید کو نذرآتش کرنے سے بچنے کے لیے اجتماعی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

ستاون رکن پرمشتمل تنظیم نے جدہ میں اپنے ہیڈ کوارٹر میں اس واقعے کا جواب دینے کے لیے ہنگامی اجلاس منعقد کیا۔اس میں سویڈن میں مقیم ایک عراقی شہری 37 سالہ سلوان مومیکا کی اشتعال انگیز حرکت کی شدیدمذمت کی گئی ہے۔اس نے گذشتہ بدھ کو اسلامی مقدس کتاب کے کئی صفحات کوپھاڑ دیا اور پھر انھیں آگ لگا دی۔

او آئی سی نے اپنے بیان میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ قرآن مجید کے نسخوں کی بے حرمتی کے واقعات کو دوبارہ رونما ہونے سے روکنے کے لیے مربوط اور اجتماعی اقدامات کریں۔

بیان کے مطابق قرآن یا کسی اور مقدس کتاب کو نذر آتش کرنا توہین آمیز اور واضح اشتعال انگیزی ہے۔ سویڈش وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ نسل پرستی، غیر ملکیوں سے نفرت اور اس سے متعلق عدم رواداری کی سویڈن یا یورپ میں کوئی جگہ نہیں ہے۔اس کے ساتھ ہی وزارت نے مزید کہا کہ سویڈن کو ’’اجتماع، اظہار رائے اور مظاہرے کی آزادی کا آئینی طور پر محفوظ حق حاصل ہے‘‘۔

عراق، کویت، متحدہ عرب امارات اور مراکش سمیت دیگر ممالک نے قرآن جلانے کے واقعے پر احتجاج کرتے ہوئے سویڈن کے سفیروں کو طلب کیا ہے۔

سویڈش پولیس نے مومیکا کو اظہار رائے کی آزادی کے تحفظ کے تحت اجازت نامہ جاری کیا تھا لیکن بعد میں حکام نے کہا کہ انھوں نے 'نسلی گروہ کے خلاف احتجاج' پر تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔انھوں نے مزید نوٹ کیا کہ مومیکا نے مسجد کے بالکل قریب اسلام کی مقدس کتاب کے اوراق جلائے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں