فرانس میں پولیس کے ہاتھوں قتل ہونے والے نوجوان کے دوست کے چونکا دینے والے انکشافات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

پیرس کے نواحی علاقے نانٹیرے میں پولیس کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے 17 سالہ فرانسیسی نوجوان نایل مرزوق اس گاڑی میں اکیلا نہیں تھا جب ایک پولیس اہلکار نے اسے گولی مار دی۔ اس کے ساتھ ایک اورنوجوان بھی تھا جو خوفزدہ ہو کر فرار ہوگیا۔ پولیس نے اس کو روکنے کی کوشش کی تھی مگر وہ خوف زدہ تھا۔

اس نوجوان کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہے۔ پولیس نے اسے گواہی کے لیے طلب کیا ہے۔ کل سوموار کے روز وہ پولیس کے سامنے بیان دے گا۔

نوجوان نے وضاحت کی کہ اس نے یہ کلپ ان تمام جھوٹی افواہوں کی تردید کے لیے تیار کیا ہے جو اس کے دوست کے کیس سے متعلق ہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ "میں سچائی کو ظاہر کرنے کے لیے اس ویڈیو کو شوٹ کرنا چاہتا تھا، کیونکہ سوشل نیٹ ورکس پر میرے دوست نایل کی موت کے بارے میں بہت سی جعلی خبریں پھیلی ہوئی ہیں۔"

پولیس وین نے ان کا تعاقب کیا

منگل 27 جون کو گاڑی میں سوار تیسرے مسافر نے جسے نایل چلا رہا تھا نے اپنے دو ساتھیوں سمیت شہر کی سیر کرنے کے لیے ایک پیلی مرسڈیز ادھار لی تھی۔ انہوں نے تصدیق کی کہ وہ کسی بھی طرح سے منشیات یا الکحل کے زیر اثر نہیں تھے، ان کے بارے میں جو افواہیں چل رہی تھیں وہ غلط تھیں۔

اس کے علاوہ اس نے زور دیا کہ وہ معمول کے مطابق گھوم رہے تھے۔ جب انہوں نے دیکھا کہ ایک پولیس کار ان کا پیچھا کر رہی ہے تو وہ تھوڑی دیر بعد رک گئے۔

اس وقت ایک اہلکار قریب آیا اور نائل کی طرف والے دروازے کو کھولنے کو کہا۔ اس نے کار کا شیشہ نیچےکیا۔ پھر ایک اور پولیس والا آیا۔

پہلا پولیس والا کہتا ہے انجن بند کر دو ورنہ گولی مار دوں گا۔

یکم جولائی 2023 کو فرانس کے شہر پیرس میں چیمپس ایلیسیز میں ٹریفک اسٹاپ کے دوران نانٹیرے میں ایک فرانسیسی پولیس افسر کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے 17 سالہ نوجوان ناہیل کی موت کے بعد فسادات کے دوران لوگ پولیس افسران کے پیچھے بھاگتے ہیں۔ (رائٹرز)
یکم جولائی 2023 کو فرانس کے شہر پیرس میں چیمپس ایلیسیز میں ٹریفک اسٹاپ کے دوران نانٹیرے میں ایک فرانسیسی پولیس افسر کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے 17 سالہ نوجوان ناہیل کی موت کے بعد فسادات کے دوران لوگ پولیس افسران کے پیچھے بھاگتے ہیں۔ (رائٹرز)

اس نے اپنے ہتھیار کے بٹ سے نائل کو مارنے کے بعد دھمکی دیتے ہوئے مزید کہا: "باہر نکل جاؤ ورنہ میں تمہیں سر میں گولی مار دوں گا۔"

پھر پولیس اہلکار نے اسے گولی مار دی

دوسرے پولیس والے نے کہا اسے گولی مارو

لیکن پہلے افسر نے اپنی بندوق کے بٹ سے لڑکے کو دوبارہ مارا۔ نایل نےغیر ارادی طور پر بریک پیڈل سے اپنی ٹانگ اٹھا لی اور گاڑی چلنے لگی جس سے دوسرے پولیس والے نے نوجوان پر براہ راست گولی مار دی۔اس طرح گاڑی رک گئی۔

جب گاڑی رکی تو نائل کا ساتھی بھاگا،اس ڈر سے کہ اس کا بھی وہی حشر ہو گا جو نایل کا ہوا۔

قابل ذکر ہے کہ گذشتہ ہفتے پولیس کے ہاتھوں قتل کے واقعے کے بعد ملک گیر مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ پرتشدد مظاہروں میں اب تک سیکڑوں افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں