اسرائیل نے مراکش کے مغربی صحرا پردعوے کو نیگیف فورم کی میزبانی سے مشروط کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیل نے مغربی صحرا پر مراکش کے دعوے کو تسلیم کرنے سے متعلق اپنے زیرالتوا فیصلے کو معاہدۂ ابراہیم میں شامل ممالک کے وزرائے خارجہ کے فورم کی میزبانی سے مشروط کردیا ہے۔امریکا کی ثالثی میں اسرائیل کے ساتھ معمول کے تعلقات استوار کرنے والے ممالک کے وزرائے خارجہ کا فورم کئی مرتبہ ملتوی ہوچکا ہے اور یہ مراکش میں منعقد ہوگا۔

مراکش نے امریکا کی ثالثی میں 2020 میں اسرائیل کے ساتھ معمول کے تعلقات بہتر کیے تھے۔اس کی حوصلہ افزائی اس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کی تھی۔انھوں نے مغربی صحرا پر رباط کی عمل داری کو تسلیم کیا تھا جبکہ الجزائر کا حمایت یافتہ پولساریو فرنٹ وہاں ایک آزاد ریاست کے قیام کے لیے جدوجہد کررہا ہے۔تاہم ٹرمپ کے جانشین صدر جو بائیڈن نے وہاں امریکی قونصل خانہ کھولنے کی منظوری نہیں دی ہے۔

سفارتی ذرائع نے کہا ہے کہ اگر مغربی صحرا پر مراکش کے دعوے کواسرائیل تسلیم کرلے تو وہ اس کے ساتھ مکمل تعلقات قائم کر سکتا ہے اور اس کے موجودہ درمیانی سطح کے سفارتی مشنوں کو اسرائیل کی جانب سے مراکش کے دعوے کو تسلیم کرنے کے بدلے میں سفارت خانوں میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

لیکن مراکش نے فلسطینیوں کے بارے میں اسرائیلی پالیسیوں کا حوالہ دیتے ہوئے گذشتہ ماہ اسرائیل اور عرب ریاستوں کے نیگیف فورم کو ملتوی کر دیا تھا۔

اسرائیلی وزیر خارجہ ایلی کوہن سے غیر ملکی میڈیا کو بریفنگ کے دوران میں جب پوچھا گیا کہ مغربی صحرا کو مراکش کا حصہ تسلیم کرنے کے بدلے میں اسرائیل کیا چاہتا ہے اورکیا وہ اس علاقے میں قونصل خانہ کھولنے کا ارادہ رکھتا ہے تو ایلی کوہن نے اس فیصلے کو وزراء خارجہ کانفرنس کے انعقاد سے مشروط کردیا۔

انھوں نے صحافیوں کو بتایا کہ’’ہم اس وقت اس مسئلے کے حوالے سے کام کر رہے ہیں اور ہمارا منصوبہ ہے کہ ہمارا حتمی فیصلہ نیگیف فورم میں کیا جائے گا‘‘۔انھوں نے اس توقع کا اظہار کیا کہ مراکش کی میزبانی میں یہ تقریب ستمبر یا اکتوبر میں ہوگی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں